آیت اللہ خامنہ ای شہید۔ ایران میں 40 روزہ سرکاری سوگ کا اعلان

نئی دہلی: ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیل کے دعووں کے بعد ایرانی فوج کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’آئی آر این اے‘ اور مرکزی نیوز چینل ’پریس ٹی وی‘ نے باضابطہ طور پر آیت اللہ علی خامنہ ای کی وفات کی تصدیق کر دی ہے اور ملک میں 40 روزہ عوامی سوگ کا اعلان کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق جس وقت حملہ ہوا اُس وقت وہ اپنے دفتر میں موجود تھے۔اسلامی انقلابی گارڈ کورپس (آئی آر جی سی) نے ایک بیان میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ تنظیم نے ان کی موت کو ’’باعزت شہادت‘‘ قرار دیا اور ان کے مشن کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
بیان میں امریکہ اور ’’صیہونی حکومت‘‘ کو اس واقعے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے سخت ردعمل اور جوابی کارروائی کا انتباہ بھی دیا گیا، جبکہ عوام سے قومی اتحاد اور طاقت کے مظاہرے کی اپیل کی گئی۔اس سے قبل پریس ٹی وی نے خبر نشر کی تھی کہ ’’اسلامی انقلاب کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں میں جاں بحق ہو گئے ہیں۔
‘‘ ان کی وفات کے بعد ایران میں چالیس روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’تاریخ کے ظالم ترین افراد میں سے ایک اب نہیں رہا۔‘‘ انہوں نے اسے ایرانی عوام کے لیے آزادی کا ایک اہم موقع قرار دیا۔اسی دوران اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی عندیہ دیا کہ خامنہ ای کا مکمل ٹھکانہ تباہ کر دیا گیا ہے۔
اسرائیلی انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق یہ ایک ’’سرجیکل اسٹرائیک‘‘ تھی، جسے جدید ہتھیاروں اور مصدقہ معلومات کی بنیاد پر انجام دیا گیا۔قابلِ ذکر ہے کہ پریس ٹی وی کی تصدیق کے بعد ایران میں اقتدار کی جانشینی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ تہران کی سڑکوں پر سناٹا اور خوف کا ماحول بتایا جا رہا ہے، جبکہ سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ اور عسکری قیادت نے اس حملے کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کیا ہے
جس کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھنے اور عالمی سطح پر بڑے تصادم کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔



