تلنگانہ

خواتین سیاست میں آگے آئیں،سماجی انقلاب کی قیادت کریں : یوم خواتین پر کویتا کا پیغام

خواتین سیاست میں آگے آئیں،سماجی انقلاب کی قیادت کریں

خواتین کو صرف سہارا نہیں بلکہ شناخت اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کاحق دیا جائے،

یوم خواتین پر کویتا کا دو ٹوک پیغام

 

حیدرآباد، عالمی یوم خواتین کے موقع پر تلنگانہ جاگروتی کی جانب سے بنجارہ ہلز میں واقع مرکزی دفتر میں شاندار تقریب کا انعقاد عمل میں آیا۔ اس موقع پر تنظیم کی صدر کلواکنٹلہ کویتا نے خواتین اراکین کے ساتھ کیک کاٹ کر جشن منایا اور ”گیو ہر اسپیس“ مہم کا پوسٹر جاری کرتے ہوئے خواتین کو بااختیار بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔کویتا نے وزیر اعلیٰ کے ”اسٹینڈ وِت ہر“ پروگرام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے نعروں سے یہ تاثر ملتا ہے کہ خواتین کی ترقی مردوں کے سہارے سے ہی ممکن ہے۔ جبکہ حقیقی بااختیاری کا تقاضا یہ ہے کہ خواتین کو معاشرہ میں مساوی مواقع، آزادی اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کئے جائیں۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ جاگروتی کا پیغام ”گیو ہر اسپیس“ دراصل اسی سوچ کی ترجمانی کرتا ہے۔کویتا نے کہا کہ خواتین کے احترام اور ان کی خدمات کا اعتراف صرف ایک دن تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ سماجی رویوں اور پالیسیوں میں ہر روز اس کا اظہارہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عظیم شخصیات جیسے جیہ شنکر اور کے چندر شیکھر راو¿ کی کامیابیوں کے پیچھے بھی ان کی ماوو¿ں کی تربیت، قربانی اور اقدار کا اہم کردار رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سماج کے ہر طبقہ اور پس منظر سے تعلق رکھنے والی خواتین کو اب ذات، طبقہ اور علاقائی تفریق سے بالاتر ہو کر متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے خواتین کو بااختیار بنانے کے تین بنیادی ستون ورزش، تعلیم اور روزگار پر توجہ دینے کی تلقین کی اور کہا کہ یہی عناصر اعتماد، علم اور معاشی خود مختاری فراہم کرتے ہیں۔کویتا نے خواتین کو عوامی زندگی اور سیاست میں فعال کردار ادا کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی سماجی تبدیلی اسی وقت ممکن ہے جب فیصلہ سازی کے مراکز میں خواتین کی نمائندگی میں اضافہ ہو۔ انہوں نے تلنگانہ تحریک میں خواتین کے تاریخی کردار کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک منصفانہ اور ترقی پسند تلنگانہ کی تعمیر میں خواتین کا کردار آئندہ بھی کلیدی رہے گا۔ریاست میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کویتا نے الزام عائد کیا کہ کانگریس حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد خواتین کے خلاف جرائم میں تقریباً 22 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خواتین کی سلامتی اور وقار کے تحفظ کیلئے مو¿ثر پولیسنگ اور سخت اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے حکومت کو خواتین سے کئے گئے وعدوں کی یاد دہانی بھی کرائی اور کہا کہ خواتین کو ماہانہ 2500 روپئے مالی امداد دینے کا وعدہ اب تک پورا نہیں کیا گیا، جسے فوری طور پر عملی جامہ پہنایا جانا چاہیے۔کویتا نے ریاست تلنگانہ کی تمام خواتین کو عالمی یوم خواتین کی دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کے تمام طبقات کو مل کر ایسا مستقبل تعمیر کرنا ہوگا جہاں خواتین کو حقیقی مساوات، تحفظ اور آزادی میسر ہو۔

متعلقہ خبریں

Back to top button