انٹر نیشنل

بریکنگ نیوز۔ سابق وزیر اعظم بنگلہ دیش شیخ حسینہ کو موت کی سزا سنا دی گئی

نئی دہلی: ڈھاکہ میں بین الاقوامی جرائم عدالت نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو سزا موت سنادی ہے۔ ڈھاکہ میں بین الاقوامی جرائم ٹریبونل (ICT) نے بنگلہ دیش کے ہنگاموں کے ایک سنسنی خیز مقدمے

 

 

میں فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو قصور وار قرار دیا اور انہیں سزائے موت سنائی۔ ان پر انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات تھے اور متعدد مقدمات ان کے خلاف درج تھے۔عدالت نے بتایا کہ گزشتہ سال جولائی اور

 

 

اگست میں ہونے والے مظاہروں کے دوران تقریباً 1400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ شیخ حسینہ نے مظاہرین کو قتل کرنے کی ہدایات دی تھیں اور زخمیوں کو علاج کی سہولت فراہم کرنے سے روک دیا تھا۔ اس مقدمے میں

 

 

سابق وزیر داخلہ اسدالجمان خان کو بھی موت کی سزا سنائی گئی۔اس فیصلے کے بعد ڈھاکہ اور دیگر علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ پولیس چیف شیخ محمد سجات علی نے حکم دیا ہے کہ اگر کوئی گاڑیاں تباہ کرنے یا بم پھینکنے

 

 

کی کوشش کرے تو فائر آن سائٹ کیا جائے۔واضح رہے کہ گزشتہ سال شیخ حسینہ مظاہرین کے دباؤ کے باعث عہدہ چھوڑ کر بھارت آ گئیں اور اب وہ دہلی کے کسی خفیہ مقام پر مقیم ہیں۔ وہ کبھی کبھار سوشل میڈیا اور قومی میڈیا کو

 

 

انٹرویوز بھی دیتی رہتی ہیں۔ فیصلے سے قبل بھی انہوں نے عوام کے نام پیغام جاری کیا تھا کہ کوئی نقصان نہ پہنچے اور عوامی لیگ کے کارکنوں سے کہا کہ وہ پرامن رہیں۔

 

 

شیخ حسینہ نے اپنے پیغام میں کہا”میں زندہ ہوں اور اپنی زندگی عوام کی بھلائی کے لیے وقف کروں گی۔ جو بھی فیصلہ ہوگا، مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا۔ اللہ کی طرف سے ملی زندگی اللہ ہی واپس لے گا۔ میں اپنے لوگوں کے لیے

 

 

کام کرتی رہوں گی۔ میں نے اپنے والدین اور رشتہ داروں کو کھو دیا، اور میرا گھر جلایا گیا۔ گونو بھون (وزیراعظم کا سرکاری رہائشی محل) میری ملکیت نہیں،

 

 

یہ حکومت کی ملکیت ہے۔ میں ملک چھوڑنے کے بعد اس میں لوٹ مار ہوئی، اور یہ انقلاب نہیں بلکہ فسادات ہیں۔”

متعلقہ خبریں

Back to top button