چین کی امریکی فوج پر نظر۔ اطلاعات کی ایران کو فراہمی!

نئی دہلی: مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے دوران چین کی جانب سے ایران کو خفیہ طور پر مدد فراہم کرنے کی خبریں پہلے ہی سامنے آ چکی ہیں۔ اس پس منظر میں مزید اہم معلومات بھی سامنے آئی ہیں۔
بتایا جا رہا ہے کہ چین کی ٹیک کمپنیاں مصنوعی ذہانت (AI) اور اوپن سورس ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے امریکہ کی فوجی تعیناتی اسلحہ کے ذخائر جنگی طیاروں، طیارہ بردار بحری جہازوں کی نقل و حرکت اور فوجی اڈوں پر مسلسل نظر
رکھ رہی ہیں۔ایک طرف چین کھلے عام دونوں فریقوں کو جنگ ختم کرنے کا مشورہ دے رہا ہے تو دوسری طرف خفیہ طور پر ایران کی مدد کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ اپنی خانگی کمپنیوں کی خدمات حاصل کر رہا ہے۔
کچھ اداروں کے مطابق چین کی کمپنیاں عوامی طور پر دستیاب سیٹلائٹ تصاویر، فلائٹ ٹریکرس، بحری نقل و حمل کی معلومات اور مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے امریکی فوج کی نگرانی کر رہی ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ یہ تمام معلومات چینی کمپنیاں ایران کے اعلیٰ فوجی حکام تک پہنچا رہی ہیں۔انٹیلی جنس ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان نگرانی کے آلات کی مدد سے کوئی بھی شخص کہیں سے بھی طیاروں کی مواصلات
کا تجزیہ کر سکتا ہے اور بڑے پیمانے پر فوجی نقل و حرکت پر نظر رکھ سکتا ہے۔ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے امریکی حکام اور ماہرین تحقیق کر رہے ہیں۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ چین کے خانگی شعبے کی جیو اسپیشل تجزیاتی
صلاحیتوں میں اضافہ نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا کے دیگر ممالک کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوپن سورس انٹیلی جنس پہلے محدود ماہرین تک ہی دستیاب تھی
لیکن اب AI کی بدولت وہ معلومات جو پہلے صرف حکومتوں کو حاصل ہوتی تھیں اب عام افراد تک بھی پہنچ رہی ہیں۔



