انٹر نیشنل

سنگاپور میں زیرِ علاج بنگلہ دیشی قائد شریف عثمان کی موت، ڈھاکہ سمیت ملک بھر میں پر تشدد واقعات، بھارتی ہائی کمیشن اور اخباری دفاتر پر حملے

بنگلہ دیش میں کچھ دن پہلے فائرنگ کے واقعہ میں زخمی ہونے والے انقلابی تنظیم “انقلاب منچ” کے کنوینر شریف عثمان بن ہیدی سنگاپور میں علاج کے دوران انتقال کر گئے۔ ان کی موت کے بعد بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ سمیت کئی علاقوں میں پر تشدد واقعات پر شدید کشیدگی پھیل گئی۔

 

چٹاگانگ میں واقع بھارتی اسسٹنٹ ہائی کمیشن کے دفتر کو رات تقریباً 11 بجے مظاہرین نے گھیر لیا اور بھارت اور عوامی لیگ کے خلاف نعرے لگائے۔

 

شرپسند عناصر نے بنگلہ دیش کے معروف انگریزی اخبار ڈیلی اسٹار کے دفتر پر حملہ کیا اور ڈھاکہ کے کاوران بازار میں واقع اس کے دفتر کو آگ لگا دی۔ کئی گھنٹوں کی محنت کے بعد تقریباً 25 صحافیوں کو آگ سے بحفاظت نکالا گیا، جن میں خواتین صحافی بھی شامل تھیں۔ دفتر کی دو منزلیں آگ کی لپیٹ میں آ گئیں۔

 

اسی طرح بنگالی اخبار پروتھوم آلو کے دفتر پر بھی ہنگامہ آرائی کی گئی۔ شرپسندوں سے بات کرنے کی کوشش کرنے والے اخبار نیو ایج کے ایڈیٹر نورالکبیر پر بھی حملہ ہوا۔ ان حالات کے پیش نظر بنگلہ دیش کے بڑے اخبارات نے آج اپنی اشاعتی سرگرمیاں معطل کر دیں۔

 

مظاہرین نے بنگلہ دیش کے بانی صدر شیخ مجیب الرحمن کے خاندان کے دھانمنڈی 32 میں واقع مکان کو بھی نقصان پہنچایا، جو اس وقت ایک میوزیم کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔

 

واضح رہے کہ جولائی میں شیخ حسینہ کے خلاف ہونے والی بغاوت میں شریف عثمان بن ہیدی نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ حالیہ دنوں میں اس نے بھارت مخالف بیانات بھی دیے تھے۔ گزشتہ جمعہ کو نامعلوم حملہ آوروں نے اس پر فائرنگ کی تھی، جس کے بعد وہ سنگاپور میں زیر علاج تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button