8مسلم ممالک کا اسرائیل پر سخت وار: فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کے قانون کی شدید مذمت

قطر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی قابض حکام کی جانب سے ایک ایسے قانون کی منظوری کی سخت مذمت کی ہے جسے اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے پاس کیا ہے اور جس کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے میں سزائے موت نافذ کرنے اور اسے فلسطینیوں پر لاگو کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
جمعرات کو جاری مشترکہ بیان میں وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ اسرائیل کے یہ اقدامات ایک نسلی امتیاز پر مبنی نظام کو مزید مضبوط کر رہے ہیں اور ایسی خارجیت پسندانہ زبان اختیار کی جا رہی ہے جو فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق اور مقبوضہ علاقوں میں ان کے وجود سے انکار کرتی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی کنیسٹ نے پیر کے روز ایک متنازع سزائے موت کا قانون منظور کیا، جس کا اطلاق صرف ان فلسطینیوں پر ہوگا جنہیں مبینہ “دہشت گردی” کے الزامات میں مجرم قرار دیا جائے۔ ووٹنگ کے بعد پارلیمنٹ میں ارکان نے جشن بھی منایا۔
اس سخت گیر قانون کے تحت، جو اسی نوعیت کے جرائم میں ملوث یہودی اسرائیلیوں پر لاگو نہیں ہوگا، فوجی عدالتوں میں سزائے موت بطورِ ڈیفالٹ (پھانسی) مقرر کی گئی ہے، جہاں فلسطینیوں کے خلاف سزا کی شرح 96 فیصد بتائی جاتی ہے۔ اس قانون میں معافی کا کوئی حق نہیں رکھا گیا اور 90 دن کے اندر سزا پر عمل درآمد لازمی قرار دیا گیا ہے۔
عرب و مسلم وزرائے خارجہ نے اس قانون کو خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ خاص طور پر فلسطینی قیدیوں کے خلاف اس کا امتیازی اطلاق کشیدگی کو مزید بڑھائے گا اور علاقائی استحکام کو نقصان پہنچائے گا۔
بیان میں اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی حالت پر بھی شدید تشویش ظاہر کی گئی اور کہا گیا کہ تشدد، غیر انسانی سلوک، بھوک اور بنیادی حقوق سے محرومی جیسے سنگین الزامات سامنے آ رہے ہیں، جو فلسطینیوں کے خلاف وسیع تر زیادتیوں کا حصہ ہیں۔
وزرائے خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ استحکام برقرار رکھنے اور مزید بگاڑ کو روکنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کرے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس قانون پر سخت تنقید کی ہے۔ برطانیہ میں قائم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ یہ قانون اسرائیل کے امتیازی نظام میں سزائے موت کو ایک اور ہتھیار بنا دے گا۔
ایمنسٹی کے مطابق، “یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ فلسطینیوں کو غیر انسانی سمجھنے کا رجحان کس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اسی مہینے یہ قانون منظور ہوا جب اسرائیلی فوج کے اٹارنی جنرل نے ایک فلسطینی قیدی کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں ملوث فوجیوں کے خلاف تمام مقدمات ختم کر دیے، جس کا وزیر اعظم اور کئی وزراء نے خیرمقدم کیا۔”
امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس واچ نے بھی اس قانون کو امتیازی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا اطلاق زیادہ تر، بلکہ تقریباً مکمل طور پر فلسطینیوں پر ہی ہوگا، جبکہ اسرائیلی شہری اور آبادکار اس کے دائرے سے باہر رہیں گے کیونکہ ان کے مقدمات سویلین عدالتوں میں چلائے جاتے ہیں۔



