متحدہ عرب امارات کے فجیرہ میں ڈرون حملے کے بعد آگ لگ گئی، تیل لوڈنگ آپریشن معطل

نئی دہلی: متحدہ عرب امارات کے فجیرہ آئل انڈسٹری ایریا میں ڈرون حملے کے بعد آگ لگ گئی ہے۔ اس بات کی اطلاع امارات کے میڈیا آفس نے دی ہے۔ ابھی تک کسی کے زخمی ہونے کی کوئی خبر نہیں ہے۔ یہاں تیل لوڈنگ کے آپریشن دوبارہ معطل کر دیے گئے ہیں۔
اس سے پہلے بھی 14 مارچ کو اس مقام پر حملہ ہوا تھا۔ فجیرہ دنیا کا دوسرا سب سے بڑا بنکرنگ پورٹ (جہازوں کو ایندھن فراہم کرنے کا مرکز) اور خام تیل کے ذخیرہ اور برآمد کا ایک بڑا ٹرمینل ہے۔ایران اور اسرائیل کے درمیان مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے تنازع کو دیکھتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اتحادیوں سے آبنائے
ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں کی حمایت کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ اگر اتحادی ممالک اس اہم سمندری راستے کو محفوظ بنانے میں مدد نہیں کرتے تو یہ نیٹو کے مستقبل کے لیے بہت برا ثابت ہو سکتا ہے۔ امریکی صدر نے اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کی ضرورت کے بارے میں برطانیہ کے
وزیر اعظم کیر اسٹارمر سے بھی بات کی۔ اس دوران اسرائیلی اور امریکی افواج نے ایران کے اندر نئے حملے کیے ہیں، جن میں تہران، ہمدان اور اصفہان جیسے شہر شامل ہیں۔ایران نے پہلی بار سجیّل میزائل داغا: ایران نے اتوار کے روز اس جنگ میں پہلی مرتبہ اسرائیل پر سجیّل بیلسٹک میزائل داغا۔
ایران کی اسلامک ریولوشنری گارڈ کور (IRGC) نے کہا کہ اسرائیل کی فوجی اور دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ ایک طویل فاصلے تک مار کرنے والی طاقتور میزائل ہے جو تقریباً 2000 کلومیٹر دور تک ہدف کو نشانہ بنا سکتی ہے۔ اس میں تقریباً 700 کلوگرام تک دھماکہ خیز مواد یا دیگر سامان لے جانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔
دوسری طرف ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو کہا کہ ایران نہ تو جنگ بندی کا مطالبہ کر رہا ہے اور نہ ہی امریکہ کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔ CBS News کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عراقچی نے اس بات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا کہ تہران نے جنگ ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ پُرسکون اور مضبوط لہجے
میں انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے تناؤ کے باوجود ایران ثابت قدم ہے۔ انہوں نے کہا“ہم نے کبھی جنگ بندی کا مطالبہ نہیں کیا اور نہ ہی ہم نے کبھی مذاکرات کیے۔ جب تک ضرورت ہوگی ہم اپنی دفاع کے لیے تیار ہیں۔”دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب آگ: ایران کی طرف سے آئے ایک ڈرون کی وجہ سے دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے
قریب آگ لگ گئی۔ دبئی میڈیا آفس نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔ اس حملے میں ایک ایندھن کا ٹینک متاثر ہوا ہے۔ سول ڈیفنس کی ٹیمیں موقع پر مسلسل کام کر رہی ہیں۔ ابھی تک کسی کے زخمی ہونے کی خبر نہیں ہے۔قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ
شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ آل سعود سے فون پر بات کی۔ قطر کی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری فوجی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا۔ بیان میں کہا گیا “دونوں فریقوں نے قطر، سعودی عرب اور کئی دیگر دوست ممالک پر ایران کی جانب سے کیے گئے غیر مناسب حملوں کی سخت مذمت کی۔”
مزید کہا گیا کہ “انہوں نے ہر قسم کی کشیدگی بڑھانے والی کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی ضرورت پر زور دیا۔”



