انٹر نیشنل

جنگی مجرم نتن یاہو کو امن کونسل میں شامل کرنے کی حماس نے کی شدید مذمت

نئی دہلی: حماس نے قابض اسرائیلی حکومت کے سربراہ نتن یاہو کو نام نہاد امن کونسل میں شامل کرنے کے امریکی فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے انصاف اور احتساب کے بنیادی اصولوں کے منافی ایک نہایت خطرناک قدم قرار دیا ہے۔

 

 

اپنے جاری کردہ بیان میں حماس نے کہا کہ جنگی مجرم اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کو مطلوبنتن یاہو کو اس نام نہاد امن کونسل میں شامل کرنا فلسطینی عوام کے خلاف جاری سنگین جرائم کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔حماس نے واضح کیا کہ نتن یاہو غزہ پر مسلط سیز فائر معاہدے کو مسلسل سبوتاژ کر رہا ہے

 

 

اور نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے رہائشی محلوں اور عوامی تنصیبات کی تباہی کے ساتھ ساتھ پناہ گاہوں پر حملے جیسے سنگین جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے حالانکہ سیز فائر کے اعلان کو تین ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔حماس نے زور دے کر کہا کہ صہیونی قبضہ بذات خود دہشت گردی کی جڑ ہے اور اس کا برقرار رہنا

 

 

علاقائی اور عالمی امن کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔ بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ خطے میں استحکام کی پہلی شرط قابض اسرائیل کی جارحیت کا مکمل خاتمہ اور اس کے جرائم پر بلا تاخیر احتساب ہے جن میں منظم نسل کشی اور بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی شامل ہے

 

 

اور ان جرائم کے سرغنہ نتن یاہو سر فہرست ہیں۔اسی تناظر میں عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاووس میں جمعرات کے روز متعدد عالمی رہنماؤں اور عہدیداروں نے جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سرفہرست ہیں غزہ پٹی کے انتظام کے لیے قائم کی جانے والی پہلی امن کونسل میں شمولیت کے منشور پر دستخط کیے۔

 

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو اس کونسل کے پہلے سربراہ ہوں گے نے دنیا بھر کے درجنوں رہنماؤں کو اس میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کونسل غزہ میں نازک سیز فائر کے ساتھ ساتھ دیگر عالمی چیلنجز سے بھی نمٹے گی تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ کونسل اقوام متحدہ کا متبادل نہیں ہوگی۔

 

 

ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ان ممالک سے جو نئی کونسل میں مستقل نشست کے خواہاں ہیں کم از کم ایک ارب ڈالر کی مالی شراکت کی شرط رکھی ہے۔امن کونسل کے مجوزہ منشور کے مسودے کے مطابق صدر ٹرمپ اس مجلس کے پہلے سربراہ ہوں گے اور وہی رکنیت کے لیے مدعو کیے

 

 

جانے والے فریقین کا فیصلہ کریں گے۔ فیصلے اکثریتی ووٹ سے کیے جائیں گے جہاں ہر موجود رکن ملک کو ایک ووٹ حاصل ہوگا تاہم تمام فیصلوں کی حتمی منظوری صدر کے اختیار میں ہوگی۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button