حزب اللہ نے کہا وہ طویل جنگ کے لیے تیار ۔ انشاء اللہ اسرائیلی میدانِ جنگ میں حیران ہوں گے: نائب سربراہ نعیم قاسم

نئی دہلی: حزب اللہ نے کہا ہے کہ وہ ایک طویل جنگ کے لیے تیار ہے جبکہ اسرائیل نے لبنان کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔لبنان گزشتہ ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں اس وقت شامل ہو گیا
جب حزب اللہ نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد اسرائیل پر حملے شروع کیے۔حزب اللہ کے نائب سربراہ نعیم قاسم نے جنگ شروع ہونے کے بعد اپنے دوسرے ٹی وی خطاب میں کہا“
ہم نے خود کو ایک طویل تصادم کے لیے تیار کر لیا ہے اور انشاء اللہ اسرائیلی میدانِ جنگ میں حیران ہوں گے۔”انہوں نے کہا کہ یہ ایک وجودی جنگ ہے، کوئی محدود یا معمولی جنگ نہیں۔جمعہ کے روز اسرائیل نے دریائے لیتانی پر واقع ایک اہم پل کو تباہ کر دیا جو زراریہ اور طیر فلسای قصبوں کے درمیان واقع تھا۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ دریا جنوبی لبنان کو مشرق سے مغرب تک تقسیم کرتا ہے۔اسرائیلی فوج نے بیان میں کہا کہ یہ پل حزب اللہ کے لیے شمالی لبنان سے جنوبی لبنان تک نقل و حرکت کا اہم راستہ تھا تاکہ وہ اپنی طاقت بڑھا سکے اور جنگ کی تیاری کر سکے۔
یہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ شروع ہونے کے بعد لبنان کے سرکاری انفراسٹرکچر پر اسرائیل کا پہلا تسلیم شدہ حملہ ہے۔اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا“یہ تو صرف آغاز ہے اور لبنان کی حکومت اور ریاست کو حزب اللہ کے زیر استعمال قومی انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔”
انہوں نے مزید کہا کہ لبنان کو علاقائی نقصان اٹھانا پڑے گا جب تک وہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے اپنے بنیادی وعدے کو پورا نہیں کرتا۔اس سے پہلے اس ہفتے لبنان کے صدر نے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی پیشکش کی تھی لیکن جمعہ کو انہوں نے
کہا کہ انہیں ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے جمعرات کو کہا کہ انہوں نے لبنانی حکومت کو خبردار کیا ہے“اگر آپ حزب اللہ کو کام جاری رکھنے دیتے رہے تو آپ آگ سے کھیل رہے ہیں۔”جمعہ کے روز اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں کئی سڑکوں
پر بمباری کی جس سے دریائے لیتانی کے شمالی علاقوں اور وادی بقاع سے آنے جانے کے راستے بند ہو گئے۔ یہ علاقہ حزب اللہ ہتھیاروں کی نقل و حمل کے لیے استعمال کرتی ہے۔اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹریس نے جمعہ کو بیروت کے دورے کے آغاز پر اسرائیل اور حزب اللہ دونوں سے جنگ بند کرنے
اور جنگ بندی کرنے کی اپیل کی۔انہوں نے لبنان میں جنگ کے باعث لاکھوں افراد کی بے گھر ہونے کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 325 ملین ڈالر کی انسانی امداد کی اپیل بھی شروع کی۔جمعہ کو اسرائیلی حملے جاری رہے۔ ایک حملے میں جنوبی لبنان کے گاؤں میہ و میہ میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے
جو بندرگاہی شہر صیدا کے قریب واقع ہے۔قریب ہی گاؤں ارکی میں محمد تقی نے اپنی چار بیٹیوں (عمر 6 سے 13 سال) کو دفن کیا جو جمعرات کے اسرائیلی حملے میں اپنے پانچ دیگر رشتہ داروں کے ساتھ ہلاک ہو گئیں۔انہوں نے جنازے کے موقع پر کہا“اسرائیلی دشمن روز کہتا ہے کہ وہ انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہا ہے۔ کیا یہ انفراسٹرکچر ہے؟”
انہوں نے کہا“میں نے اپنی چار بیٹیاں کھو دی ہیں زینب، زہرا، ملیکہ اور یاسمینہ۔ اسی حملے میں میرے والدین، بھائی، بھتیجے اور بہنوئی بھی مارے گئے۔”لبنان کے علاقے سوانہ میں ایک اور حملے میں دو طبی امدادی کارکن ہلاک ہو گئے۔
ان میں سے ایک حزب اللہ سے وابستہ اسلامک ہیلتھ کمیٹی اور دوسرا رسالہ اسکاؤٹس تنظیم سے تعلق رکھتا تھا، جو امل موومنٹ سے وابستہ ہے۔دوسری جانب حزب اللہ نے جمعہ کو اسرائیلی فوج کے خلاف حملے بھی کیے اور کہا کہ یہ یوم القدس آپریشن کا حصہ ہیں۔
یوم القدس ایران میں ہر سال رمضان کے آخری جمعہ کو فلسطینی کاز کی حمایت میں منایا جاتا ہے۔اسرائیلی فوج نے بیروت کے جنوبی مضافات سمیت کئی علاقوں کے لیے انخلا کی نئی وارننگز جاری کیں اور وہاں متعدد فضائی حملے کیے۔جمعرات کو بھی اسی طرح کی وارننگ جاری کی گئی تھی
جس میں جنوبی لبنان میں 40 کلومیٹر تک کے علاقے کو خالی کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔جمعہ کو اسرائیلی طیاروں نے بیروت پر پمفلٹ بھی گرائے۔
ان میں سے ایک پمفلٹ میں لبنانی عوام سے کہا گیا“آپ کو ایران کی ڈھال حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ہوگا۔ لبنان آپ کا فیصلہ ہے کسی اور کا نہیں۔”



