انٹر نیشنل

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ

نئی دہلی: ایران اور اسرائیل۔امریکہ کے درمیان مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پیر کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھا گیا۔ کشیدگی اور سپلائی کے خدشات کے باعث خام تیل کی قیمت تقریباً 115 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور ایک وقت پر یہ 125 ڈالر کے قریب بھی جا پہنچی۔

 

یہ 2022 کے بعد سب سے زیادہ بلند سطح ہے۔اس صورتحال نے خاص طور پر ان ممالک کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے جو درآمدی تیل پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ بھارت بھی ان میں شامل ہے کیونکہ وہ اپنی ضروریات کا تقریباً 85 فیصد تیل درآمد کرتا ہے۔ اس وجہ سے جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو بھارت کو اسی مقدار میں تیل خریدنے کے لیے کہیں زیادہ رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔

 

گزشتہ مالی سال 2024–25 میں بھارت نے تقریباً 243 ملین ٹن خام تیل درآمد کیا جس کی مالیت تقریباً 137 ارب ڈالر تھی۔ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمت طویل عرصے تک 100 سے 115 ڈالر فی بیرل کے درمیان برقرار رہتی ہے تو بھارت کا تیل درآمدی بل ہر سال تقریباً 56 سے 64 ارب ڈالر (یعنی تقریباً 5 سے 5.9 لاکھ کروڑ روپے) تک بڑھ سکتا ہے۔

 

اس سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھنے کا خدشہ ہے، بھارتی روپیہ مزید کمزور ہو سکتا ہے اور مہنگائی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے ملک کی معیشت پر دباؤ بڑھے گا تاہم ریٹنگ ایجنسی آئی سی آر اے (ICRA) کی چیف اکانومسٹ ادیتی نائر کے مطابق فی الحال اس سطح کا بڑا معاشی بحران نہیں ہے

 

لیکن اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور جنگ جاری رہتی ہے تو صورتحال زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے۔زیادہ تیل کی قیمتیں ایندھن کی قیمتوں، نقل و حمل کے اخراجات اور مجموعی معاشی ترقی سمیت معیشت کے کئی شعبوں کو متاثر کرتی ہیں۔ اسی وجہ سے حکومت اور تیل کمپنیاں صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں

 

اور ملک میں تیل کی مناسب فراہمی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button