انٹر نیشنل

ایران کے حملوں سے عالمی تیل کی منڈی میں لگی آگ-قیمتیں آسمان پر، عالمی معیشت پر خطرہ

مغربی ایشیا کی جنگ سے تیل کی قیمتوں میں بھاری اضافہ، عالمی معیشت پر تشویش کے بادل

 

مغربی ایشیا میں جاری جنگ نے عالمی تیل بازار کو شدید ہلا کر رکھ دیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہونے سے دنیا بھر کے ممالک پریشان ہو گئے ہیں۔ کئی ممالک نے تیل کی فراہمی میں راشننگ شروع کر دی ہے جبکہ بعض ممالک نے ایندھن کی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔ دوسری جانب کئی حکومتوں نے جنگ روکنے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ مسلسل کشیدگی سے عالمی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

 

ایران میں نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔ اطلاعات کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا ہے۔ ان کے انتخاب کے فوراً بعد ایران نے تیل کے ذخائر اور نقل و حمل کے مراکز کو نشانہ بناتے ہوئے حملے تیز کر دیے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں اچانک بڑھ گئیں۔ ایک ہی دن میں خام تیل کی قیمت فی بیرل 30 ڈالر سے زیادہ بڑھ گئی اور ایک مرحلے پر یہ 119.5 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو جنگ کے آغاز کے مقابلے میں تقریباً 65 فیصد زیادہ ہے۔ بعد میں قیمت گھٹ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل پر آ گئی، تاہم یہ گزشتہ تجارتی دن کے مقابلے میں تقریباً 9 فیصد زیادہ رہی۔

 

کشیدگی میں اضافے کے باعث عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی شدید گراوٹ دیکھی گئی۔ ادھر امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے مختلف ٹھکانوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

 

دوسری جانب آبنائے ہرمز پر ایران کی کارروائیوں کے بعد تیل کی نقل و حمل تقریباً رک گئی ہے۔ اس آبی راستے سے روزانہ تقریباً 15 ملین بیرل تیل دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس صورتحال کے باعث سعودی عرب، کویت، عراق، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور ایران سے ہونے والی تیل و گیس کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے۔

 

متحدہ عرب امارات میں ایک تیل کے مرکز میں آگ لگنے کی اطلاع ہے جبکہ ایران نے ابوظہبی کی سمت 15 بیلسٹک میزائل اور 18 ڈرون داغے۔ فضائی دفاعی نظام نے 12 میزائل اور 17 ڈرون تباہ کر دیے جبکہ چند سمندر میں جا گرے اور ایک ڈرون زمین پر گرا۔

 

ڈرون اور میزائلوں کو روکنے کی کارروائی کے دوران گشت کر رہا ایک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں دو فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے۔ حکام کے مطابق یہ حادثہ تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا۔

 

رپورٹ کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک ایران متحدہ عرب امارات کی طرف 253 بیلسٹک میزائل اور 1440 ڈرون داغ چکا ہے، جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور 117 زخمی ہوئے ہیں۔

 

بحرین کے واحد آئل ریفائنری پر بھی حملے کیے گئے جس کے بعد سرکاری تیل کمپنی نے تیل کی ترسیل عارضی طور پر معطل کر دی۔ سعودی عرب نے بھی اعلان کیا کہ اس نے اپنے شیبہ آئل فیلڈ کی جانب آنے والے کئی ڈرون تباہ کر دیے ہیں اور غیر معمولی حالات کے باعث تیل کی ترسیل محدود کر دی گئی ہے۔

 

علاقے میں جاری ان حملوں کے نتیجے میں مختلف ممالک میں مجموعی طور پر درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بھی متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد خطے میں خوف و ہراس کی فضا مزید بڑھ گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button