انٹر نیشنل

امریکی جنگی جہاز ابرہم لنکن پر حملہ کرنے ایران کا دعویٰ

نئی دہلی : ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی طیارہ بردار جنگی جہاز USS Abraham Lincoln پر حملہ کیا ہے۔ ایران کے مطابق اس کے بیلسٹک میزائل اس جنگی جہاز سے ٹکرا گئے، جس کے نتیجے میں وہ غیر فعال ہو گیا اور خلیجی سمندر سے پیچھے ہٹ گیا

 

تاہم امریکہ نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے اور یونائٹیڈ اسٹیٹ سنٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ایک بیان جاری کر کے ایران کے دعوؤں کی تردید کی۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک ایرانی کشتی ابراہم لنکن کے بہت قریب آ گئی تھ۔ اسے دیکھ کر امریکی افواج نے فائرنگ کی۔ تاہم اس واقعے میں امریکی جہاز کو نقصان پہنچا یا نہیں اس بارے میں کوئی واضح معلومات نہیں دی گئیں۔

 

رپورٹس کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے سے پہلے ٹرمپ کی قیادت میں امریکی افواج نے اس جہاز کو South China Sea سے West Asia منتقل کیا تھا۔ اس طیارہ بردار جہاز پر آٹھ اسکواڈرن جنگی طیارے موجود ہیں۔یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ایران نے ابراہم لنکن پر حملے کا دعویٰ کیا ہو۔ جنگ شروع ہونے کے تین دن بعد بھی ایران نے چار میزائلوں سے حملہ کرنے کا دعویٰ کیا تھاجس سے کافی ہلچل مچ گئی تھی۔

 

تاہم اس وقت بھی امریکہ نے اس دعوے کو مسترد کر دیا تھا۔ماہرین کے مطابق اگرچہ ایران کے پاس بڑی تعداد میں ہائپرسونک اور جہاز شکن میزائل موجود ہیں لیکن امریکی طیارہ بردار جہاز کو نشانہ بنانا تقریباً ناممکن سمجھا جاتا ہے۔طیارہ بردار جہاز کی اصل طاقت اس پر موجود جنگی طیارے ہوتے ہیں۔ یو ایس ایس ابراہم لنکن پر F/A-18 Super Hornet اور F-35C Lightning II جیسے اسٹیلتھ جنگی طیارے، ہیلی کاپٹر اور ڈرون موجود ہیں۔

 

یہ نہ صرف دشمن پر حملہ کرتے ہیں بلکہ جہاز کا دفاع بھی کرتے ہیں۔جنگ کے دوران طیارہ بردار جہاز سمندر میں ایک جگہ ساکن نہیں رہتا بلکہ تقریباً 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے حرکت کرتا رہتا ہے۔ ریئل ٹائم سیٹلائٹ نیٹ ورک کے بغیر اس کا درست مقام معلوم کرنا مشکل ہوتا ہے۔

 

اطلاعات کے مطابق یو ایس ایس ابراہم لنکن اس وقت Arabian Sea میں ایران کے ساحل سے کچھ فاصلے پر ایک اسٹریٹجک مقام پر موجود ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button