جنگ بندی کی تجویز مسترد: ایران کا دوٹوک اعلان — مستقل حل کے بغیر امن ناممکن، امریکہ کے سامنے 10 نکاتی مطالبات پیش

مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے تناظر میں امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز کو ایران نے مسترد کر دیا ہے۔ ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے Islamic Republic News Agency کے مطابق ایران نے پاکستان کے ذریعے اپنا ردعمل امریکہ تک پہنچایا۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ عارضی جنگ بندی کے لیے تیار نہیں، بلکہ اس تنازعے کا مستقل حل چاہتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران نے اس موقع پر امریکہ کے سامنے 10 نکاتی مطالبات بھی پیش کیے ہیں، جن میں کشیدگی کے خاتمے، آبنائے ہرمز میں محفوظ آمد و رفت کے لیے ضابطہ کار، پابندیوں کے خاتمے اور جنگ کے بعد تعمیرِ نو سے متعلق شرائط شامل ہیں۔
قاہرہ میں ایران کے سفارتی مشن کے سربراہ مولتبیٰ فرہوسی نے خبر رساں ادارے Associated Press سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “ہم صرف جنگ بندی پر رضامند نہیں ہوں گے، بلکہ ایسی کسی بھی پیشکش کو تبھی قبول کریں گے جب اس کے ساتھ یہ ضمانت ہو کہ آئندہ ہم پر دوبارہ حملہ نہیں ہوگا”۔
یہ ردعمل ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے توانائی اور بنیادی ڈھانچے پر ممکنہ حملوں کے لیے دی گئی مہلت ختم ہونے کے قریب بتائی جا رہی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔



