انٹر نیشنل

جوہری مؤقف پر ڈٹ گیا ایران – اسلام آباد بات چیت ناکام ہونے کے بعد ایرانی وفد واپس روانہ

 

ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے اہم مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہوگئے۔ تقریباً 21 گھنٹوں تک جاری رہنے والی بات چیت کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات برقرار رہے، جس کے باعث پیش رفت ممکن نہ ہوسکی۔

 

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس ارقچی کے ترجمان نے واضح کیا کہ ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سفارت کاری دراصل ایران کی سرزمین کے دفاع کی جدوجہد کا تسلسل ہے اور ملک اپنے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

 

مذاکرات کے دوران جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز اور جنگ بندی جیسے اہم امور زیرِ بحث آئے، تاہم دو سے تین بڑے نکات پر شدید اختلافات برقرار رہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق کچھ معاملات میں محدود پیش رفت ضرور ہوئی، لیکن مجموعی طور پر کوئی ٹھوس نتیجہ برآمد نہیں ہوسکا۔

 

ایران نے پاکستان کی میزبانی اور ثالثی کردار کو سراہتے ہوئے شکریہ ادا کیا، تاہم واضح کیا کہ وہ اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے خود انحصاری کی پالیسی جاری رکھے گا۔ مذاکرات کے اختتام کے بعد ایرانی وفد اسلام آباد سے واپس روانہ ہوگیا۔

 

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کے “حد سے زیادہ مطالبات” معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے۔ دوسری جانب ایران نے یہ بھی اشارہ دیا کہ وہ مذاکرات کے لیے کسی جلدی میں نہیں ہے اور اب اگلا قدم اٹھانا امریکہ کی ذمہ داری ہے۔

‏ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا سب سے بڑا تعطل لبنان کے مسئلے پر ہوا۔ایٹمی مسئلہ اور آبنائے ہرمز سرخیوں میں ہیں، مگر ذرائع کے مطابق اصل رکاوٹ لبنان پر آئی۔

 

امریک نے پیشکش کی تھی کہ وہ اسرائیل کو قائل کرے گا کہ بیروت پر حملے روک دے، اور پھر بتدریج جنوبی لبنان اور باقی ملک میں بھی حملے روکنے کی طرف بڑھا جائے گا۔

 

ایران نے اس کے برعکس فوری اور مکمل جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ اس فرق کو ختم نہیں کیا جا سکا۔نتیجتاً، اسرائیل کی جانب سے لبنان پر بمباری جاری رکھنے نے براہِ راست امریکہ ایران امن مذاکرات کو ناکام بنا دیا۔

وہ ملک جو اسلام آباد میں مذاکرات کی میز پر موجود ہی نہیں تھا، تین ہزار میل دور سے ان مذاکرات کو سبوتاج کر گیا۔

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button