انٹر نیشنل

ایران نے اسرائیل کے خلاف ہائی پاور میزائل استعمال کرنا شروع کر دیے

ایران نے اپنے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے انتقال کے بعد دشمن کو نشانہ بنانے جدید اور انتہائی طاقتور میزائل سسٹمز استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں۔ ان میں ہر میزائل کی اپنی خاصیت ہے اور بعض کا مقصد ایران ڈوم سمیت اسرائیل کی دفاعی صلاحیتوں کو بھی چیلنج کرنا ہے۔

 

1. فَتَح-2 (Fatah-2)

ہائپر سونک گلائیڈ وِہیکل، آواز کی رفتار سے 13–15 گنا زیادہ (تقریباً 15,000–18,000 کلومیٹر فی گھنٹہ)۔

پرواز کے دوران اپنا رخ تبدیل کر سکتا ہے، اس لیے رادار کے لیے پکڑنا اور دفاع کرنا مشکل۔

رینج: تقریباً 1,400 کلومیٹر، مڈل ایسٹ میں موجود امریکی فوجی اڈوں تک پہنچ سکتا ہے۔

 

2. غدر-110 (Ghadr-110)

شاہاب-3 کا بہتر ورژن، بالسٹک اور ہائی اسپید۔

رفتار: آواز کی رفتار سے 9 گنا (Mach 9)۔رینج: 1,600–2,000 کلومیٹر، اسرائیل کے کسی بھی علاقے تک پہنچ سکتا ہے۔

30 منٹ میں فائر کے لیے تیار، موبائل لانچرز سے کہیں بھی داغا جا سکتا ہے۔

 

3. خَیبَر میزائل (Khyber Missiles)

ایران کا سب سے بھاری اور طاقتور میزائل، 2023 میں متعارف۔

رینج: 2,000 کلومیٹر، 1,500 کلوگرام دھماکہ خیز مواد لے جا سکتا ہے۔

لیکوئڈ فیول انجن کے ساتھ، زیر زمین گوداموں میں سالوں تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔پرواز میں رخ تبدیل کر سکتا ہے، رادار سے بچ سکتا ہے۔تازہ حملوں میں اسرائیل کے زیر زمین فوجی مراکز اور بنکرز کو نشانہ بنایا گیا۔

 

اسرائیل کی موجودہ دفاعی نظام، جیسے کہ “آئی-رین ڈوم”، کم رینج کے میزائلوں کو تو روکتا ہے، لیکن ایران کے یہ جدید ہائپر سونک اور بھاری میزائل اس کے دفاع کے لیے چیلنج ہیں۔ ایران کے ان میزائل حملوں کے بعد مڈل ایسٹ میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے اور عالمی سطح پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button