انٹر نیشنل

ایران-امریکہ امن مذاکرات کا 5گھنٹے تاخیر سے آغاز – اسلام آباد میں تاریخی بات چیت

اسلام آباد: دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بننے والی ایران اور امریکہ کے درمیان اہم امن مذاکرات پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں شروع ہو گئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ شرائط کے باعث مذاکرات مقررہ وقت سے تقریباً پانچ گھنٹے تاخیر سے شروع ہوئے۔

 

اطلاعات کے مطابق مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران اور امریکہ نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کے دوران بات چیت کا آغاز کیا ہے۔ اسلامی انقلاب کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب دونوں ممالک کے اعلیٰ نمائندے براہ راست سفارتی مذاکرات میں شریک ہوئے ہیں۔

 

امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس، جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کر رہے ہیں، جبکہ ایرانی وفد میں پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ سید عباس عراقچی شامل ہیں۔ اس اہم ملاقات میں پاکستان کی جانب سے وزیر اعظم اور فوجی قیادت ثالثی کا کردار ادا کر رہی ہے۔

 

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی نیت اور سنجیدگی کا اندازہ جلد ہو جائے گا، جبکہ آبنائے ہرمز کے کھلنے اور تیل کی ترسیل کے متبادل راستوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکہ مزید سخت کارروائی کے لیے تیار ہے۔

 

اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ بات چیت جنگ بندی کو طول دے گی یا خطے میں جاری کشیدگی کا مستقل حل نکالنے میں کامیاب ہوگی، جس پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button