انٹر نیشنل

اسلام آباد میں ایران-امریکہ آمنے سامنے، سخت سکیورٹی میں دونوں ممالک کے قائدین کریں گے امن بات چیت

اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان اہم امن مذاکرات کے لیے غیرمعمولی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں، جہاں پاکستان نے 10 ہزار سے زائد فوجی اور پولیس اہلکار تعینات کر دیے ہیں۔ دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود اسلام آباد پہنچ چکے ہیں، جبکہ ایرانی وفد کو پاکستان کے جنگی طیاروں کی نگرانی میں نور خان ایئر بیس پر اتارا گیا۔

 

پاکستان نے ایرانی وفد کی مکمل فہرست جاری کر دی ہے، جس میں 86 اعلیٰ حکام، ماہرین اور میڈیا نمائندے شامل ہیں۔ وفد کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر غالباف کر رہے ہیں، جبکہ اس میں وزیر خارجہ عباس عراقچی، قومی سلامتی کونسل کے ارکان، مرکزی بینک کے گورنر، نائب وزرائے خارجہ، ترجمان دفتر خارجہ، اراکین پارلیمنٹ اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے صدر بھی شامل ہیں۔

 

وفد میں دو اہم شخصیات علی باقری کنی اور محمد نبویان خصوصی توجہ کا مرکز ہیں۔ علی باقری کنی جوہری مذاکرات میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں، جبکہ سخت گیر رکن پارلیمنٹ محمد نبویان کی شمولیت اس بات کی علامت ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کو ایران کے سخت موقف رکھنے والے حلقوں کی بھی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔

 

اسی طرح مرکزی بینک کے گورنر کی موجودگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات میں ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی جیسے اہم مالیاتی امور پر براہ راست اور فوری بات چیت متوقع ہے۔ یہ مذاکرات خطے میں امن اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے نہایت اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button