ایران مجھے اپنا سپریم لیڈر بنانا چاہتا تھا، میں نے منع کیا ۔ ڈونالڈ ٹرمپ کا دعویٰ

نئی دہلی: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں ایک ریپبلکن فنڈ ریزر پروگرام کے دوران کہا کہ ایران کے لوگ انہیں اپنا سپریم لیڈر بنانا چاہتے ہیں لیکن انہیں اس عہدے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
ٹرمپ نے نیشنل ریپبلکن کانگریشنل کمیٹی کے سالانہ فنڈ ریزنگ ڈنر میں کہا میں کبھی کسی ملک کا ایسا سربراہ نہیں رہا جس نے اس عہدے کو حاصل کرنے کی خواہش اتنی کم رکھی ہو جتنی ایران کا سربراہ بننے کے لیے۔ ہم ان کی بات واضح طور پر سن رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ہم آپ کو اگلا سپریم لیڈر بنانا چاہتے ہیں میں نے کہا نہیں شکریہ، مجھے یہ نہیں چاہیے۔ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے معاہدہ قریب ہے حالانکہ تہران نے ان کے 15 نکاتی جنگ بندی منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے اپنی الگ شرائط پیش کی ہیں۔تاہم ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی خبروں کی تردید کی ہے۔
دوسری جانب ٹرمپ نے کہا کہ ایران امن مذاکرات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی مذاکرات کار اس بات کو عوامی طور پر تسلیم کرنے سے ڈر رہے ہیں کیونکہ انہیں اپنے ملک میں خطرہ ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا: وہ بات چیت کر رہے ہیں اور معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن اسے کہنے سے ڈرتے ہیں۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکہ سے مارے جانے کا بھی خوف ہے۔ٹرمپ کا یہ بیان ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے اس بیان کے بعد آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہم مذاکرات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، مغربی ایشیا کے تنازعے پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا
میں نے وہ قدم اٹھایا جو پچھلے 47 برسوں میں کسی بھی صدر کو اٹھانا چاہیے تھا۔ کئی لوگوں نے کہا کہ وہ ایسا کرنا چاہتے تھے لیکن ان میں ہمت نہیں تھی۔



