10 لاکھ فوج کی تیاریاں ، 12 سال کے بچے بھی شامل—امریکی حملے کی صورت میں سخت جواب دینے ایران کی دھمکی

ایران میں ممکنہ زمینی جنگ کی تیاریاں، خطے میں تشویش میں اضافہ
ایران میں ممکنہ زمینی حملوں سے متعلق خبروں نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ کی جانب سے زمینی کارروائی کی تیاریوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، جس کے جواب میں ایران نے بھی اپنی عسکری تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران دس لاکھ سے زائد فوجیوں کو تیار کرنے میں مصروف ہے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ نے فوجی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایک طرف مذاکرات جاری ہیں، تو دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ مغربی ایشیا میں اپنی فوجی موجودگی کو وسعت دے رہے ہیں۔ اس کے ردعمل میں ایران نے بسیج فورس اور اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) سمیت مختلف عسکری یونٹس کو فوری کارروائی کے لیے مستعد کر دیا ہے۔
ایرانی فوجی حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی فوج نے ایران کی سرزمین پر قدم رکھا تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔ ساتھ ہی بسیج فورس اور آئی آر جی سی میں شمولیت کے لیے نوجوانوں کی بڑی تعداد رضاکارانہ طور پر درخواستیں دے رہی ہے۔
دوسری جانب بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر ایران نے جنگ میں شرکت کی عمر کی حد میں بھی نرمی کر دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق 12 سال کے بچوں کو بھی محدود ذمہ داریوں کے ساتھ شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جسے "فار ایران” مہم کا نام دیا گیا ہے۔ ان بچوں کو گشت اور چیک پوسٹس پر تعینات کیا جائے گا۔
ادھر اسرائیل کو بھی جنگی صورتحال میں فوجی کمی کا سامنا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریباً 12 ہزار فوجیوں کی کمی سامنے آئی ہے، جس پر فوجی قیادت نے تشویش ظاہر کی ہے۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زمیر نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کئے گئے تو صورتحال سنگین ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے وزیر اعظم نتن یاہو سمیت اعلیٰ حکام کو خط بھی تحریر کیا ہے۔



