ہم ٹرمپ کو نہیں چھوڑیں گے۔ خامنہ ای کی موت کی قیمت انہیں ادا کرنی ہوگی۔ ایران

نئی دہلی: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای پر حملے کے معاملے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس کی قیمت ضرور چکانی پڑے گی۔ ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سکریٹری علی لاریجانی نے یہ سخت انتباہ دیا ہے۔
خامنہ ای کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہونے والے لاریجانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ وہ اپنے رہنما کی موت کا بدلہ ضرور لیں گے۔انہوں نے لکھا“ہم ٹرمپ کو نہیں چھوڑیں گے۔
خامنہ ای کی موت کی قیمت انہیں چکانی ہوگی۔ حملوں میں ہمارے رہنما سمیت کئی لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ ہم اس کا مناسب جواب دیں گے۔”لاریجانی نے ایک اور پیغام میں دعویٰ کیا کہ جنگ کے دوران کئی امریکی فوجیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے
اور انہیں جیلوں میں رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ یہ کہہ کر گمراہ کن بیان دے رہے ہیں کہ ایرانی حملوں میں صرف چھ امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ حقیقت میں ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بعد میں مختلف حادثات اور فرضی واقعات دکھا کر ہلاکتوں کی تعداد بڑھائی جا سکتی ہے۔موجودہ صورتحال پر مقامی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے لاریجانی نے کہا کہ ایران کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔
انہوں نے اس موقع پر وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ امریکی افواج انہیں قیدی بنا کر لے گئی ہیں۔ان کے مطابق امریکہ نے وینزویلا کی طرح ایران میں بھی جلد جنگ ختم کرنے کی کوشش کی تھی
مگر یہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔دوسری جانب امریکی فوج کے مرکزی کمانڈ سینٹکام کے نمائندے نے لاریجانی کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایران کی حکومت کے جھوٹ اور پروپیگنڈے کی ایک اور مثال ہے۔



