انٹر نیشنل

ایران کا “مچھروں کا بیڑا” امریکہ کو خوفزدہ کر رہا ہے!سمندری لڑائی کیلئے ایران کی نئی حکمت عملی جانیں

نئی دہلی: دنیا کی تیل کی اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز پر مضبوط کنٹرول قائم کرنے کے لیے ایران نے ایک خصوصی بحری دستہ تیار کیا ہے۔ تاہم یہ ابھی مکمل طور پر میدان میں نہیں اترا۔ امریکا نے خلیجی علاقے میں اپنے تین بڑے طیارہ بردار جنگی بحری جہاز بھیج دیے ہیں لیکن وہ ابھی تک آبنائے ہرمز کی طرف نہیں بڑھے۔

 

دوسری طرف پاسداران انقاب نے اعلان کیا ہے کہ اگر امریکی بحری جہاز یہاں آئیں گے تو انہیں مناسب جواب دیا جائے گا۔ ایران کی فورسز ایسے ہتھیاروں کے ساتھ آبنائے ہرمز کے قریب تیار بیٹھی ہیں جو بڑی طاقتوں کے دفاعی نظام کو تھکا سکتے ہیں۔

 

“مچھروں کا بیڑا” کیا ہے؟

ایران کی چھوٹی تیز رفتار کشتیوں نے اب تک جنگ میں بڑا اثر نہیں دکھایا لیکن سمندری محاصرہ کی حکمت عملی میں ان کشتیوں کو “Mosquito Fleet” (مچھر بیڑا) کہا جاتا ہے اور ان کا کردار بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔ تقریباً 10 ٹن وزن والی ان فاسٹ بوٹس کی تعداد ایران کی آئی آر جی سی نیوی کے پاس تقریباً 1500 بتائی جاتی ہے۔

 

امریکہ نے ایران کے کچھ بڑے جہاز تباہ کرنے پر خوشی ظاہر کی تھی لیکن یہ چھوٹی کشتیاں اب اس کے لیے ایک بڑا چیلنج بن رہی ہیں۔ ایران نے دوسری عالمی جنگ کے دوران استعمال ہونے والی پی ٹی بوٹس کی حکمت عملی کو جدید اینٹی شپ میزائل بوٹس کے ساتھ ملا کر استعمال کیا ہے۔ اندازہ ہے کہ ان میں سے تقریباً 300 کشتیاں میزائل بردار ہیں۔

 

ان پر نصر اور کوثر جیسے کم فاصلے تک مار کرنے والے سپر سونک گائیڈڈ میزائل نصب کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ساحلی علاقوں سے داغے جانے والے غدر، ظفر اور ابو مہدی جیسے میزائل بھی موجود ہیں۔ یہ چھوٹی کشتیاں سمندر میں اسمارٹ بارودی سرنگیں (Smart Mines) بچھانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔

 

یہ کشتیاں تقریباً 50 سے 110 ناٹس کی رفتار سے چل سکتی ہیں اور سمندر میں بہت تیزی سے حرکت کرتی ہیں۔ اگر یہ چھوٹی کشتیاں گروپ کی شکل میں حملہ کریں تو بڑے جنگی جہازوں کے ٹارگٹنگ سسٹم کو بھی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے آبنائے ہرمز میں ہونے والی ایک جنگی

 

مشق میں 40 ایسی کشتیاں شامل تھیں۔اصل میں یہ آبی گزرگاہ کافی تنگ ہے اس لیے بڑے جہاز آسانی سے تیزی سے رخ تبدیل نہیں کر سکتے۔ اس وجہ سے وہ چھوٹی کشتیوں کے حملوں کا آسان ہدف بن سکتے ہیں۔

 

بغیر پائلٹ ڈرون کشتیوں کا خطرہ

ایران کی تیار کردہ چھوٹی ڈرون بوٹس تیل بردار ٹینکروں کے لیے بڑا خطرہ بن چکی ہیں۔ پہلے بھی ان کے ذریعے ٹینکروں پر حملے کیے جا چکے ہیں۔ ماضی میں یوکرین نے بھی اسی طرح کی کشتیوں کو روس کے خلاف استعمال کیا تھا۔جنوری میں آئی آر جی سی کی جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں زیر زمین اڈے میں بڑی تعداد میں ایسی ڈرون کشتیاں دکھائی گئیں۔

 

ایران سے منسلک حوثی گروہ پہلے ہی ڈرون بوٹس استعمال کر چکا ہے۔ چھوٹی فائبر گلاس یا لکڑی کی کشتیوں کو بغیر انسان کے چلنے والی کشتیوں میں تبدیل کیا گیا ہے۔ شبہ ہے کہ ان کا استعمال پہلے ہی کویت اور عراق کے قریب کچھ آئل ٹینکروں پر حملوں میں کیا جا چکا ہے۔ایران کی فوج کے پاس “اژدھار” نامی ایک بغیر پائلٹ پانی کے اندر چلنے والی گاڑی (Underwater Vehicle) بھی ہے۔

 

یہ تقریباً چار دن تک 600 کلومیٹر کے دائرے میں گشت کر سکتی ہے اور ضرورت پڑنے پر جہازوں پر حملہ بھی کر سکتی ہے۔اسے “خاموش قاتل” بھی کہا جاتا ہے۔ اسے خاص طور پر امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اسے فضائی نگرانی کے ذریعے تلاش کرنا اور تباہ کرنا بہت مشکل سمجھا جاتا ہے۔

 

ایران کی یہ حکمت عملی امریکا اور اسرائیل کے لیے اخراجات کو نمایاں طور پر بڑھا سکتی ہے اور آبنائے ہرمز پر ان کا مکمل کنٹرول حاصل کرنا آسان نہیں رہے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button