انٹر نیشنل

امریکہ، اسرائیل سے مقابلہ کیلئے ایران کے 10 لاکھ فوجی تیار۔ 12 سال کے بچے بھی شامل۔اسرائیل کو فوجیوں کی کمی کا سامنا !

نئی دہلی: ایران میں زمینی حملوں کے لیے امریکہ کی تیاریوں سے متعلق آنے والی خبروں کے درمیان ان حملوں کو روکنے کے لیے ایران بھی تیاریاں شروع کر چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس سلسلے میں 10 لاکھ سے زائد فوجیوں کو تیار کیا جا رہا ہے۔

 

فوجی حکام کے حوالے سے وہاں کے میڈیا نے یہ بات بتائی ہے۔ایک طرف مذاکرات جاری ہونے کی بات کی جا رہی ہے تو دوسری طرف امریکی صدر ٹرمپ مغربی ایشیا میں اپنی فوجی موجودگی کو بڑھا رہے ہیں۔ ایرانی فوجی ذرائع کے مطابق

 

اسی تناظر میں پاسداران انقلاب سمیت کئی شعبے اپنی افواج کو اس طرح مضبوط بنا رہے ہیں کہ وہ فوری طور پر میدان جنگ میں اتر سکیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکی فوج ایران کی سرزمین پر قدم رکھتی ہے تو ان کے جنگجو انہیں سخت جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

 

بسیج فورس پاسداران انقلاب میں رضاکارانہ طور پر شامل ہونے کے لیے نوجوانوں کی بڑی تعداد درخواستیں دے رہی ہے۔ادھر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر ایران نے جنگ میں حصہ لینے کی کم از کم عمر کی حد بھی کم کر دی ہے۔

 

حکام کے مطابق 12 سال کے بچوں کو بھی جنگ میں شامل ہونے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کو “فار ایران” کا نام دیا گیا ہے۔ انہیں گشت اور چیک پوسٹس پر تعینات کیا جائے گا۔دوسری جانب ایران کے ساتھ جاری

 

کشیدگی کے دوران اسرائیل کو فوجیوں کی کمی کا سامنا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فوجی حکام نے حکومت کو بتایا ہے کہ ضرورت کے مقابلے میں 12 ہزار فوجی کم ہیں۔ اس کمی کی وجہ سے اسرائیلی دفاعی فورس (IDF) کے کمزور پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

 

ادارے کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے اس پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سمیت دیگر اعلیٰ حکام کو بھی مکتوب لکھا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button