’اسرائیل کی فوج تھک چکی ہے‘ اسرائیل کے اپوزیشن لیڈر کا یہودیوں کو بھی فوج میں شامل کرنے کا مطالبہ

File photo
نئی دہلی: اسرائیل کے اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بغیر کسی واضح حکمتِ عملی کے کم تعداد میں فوجیوں کو جنگ میں بھیج رہی ہے۔ عبرانی زبان کے ویڈیو پیغام میں یائر لیپڈ نے کہا کہ
اسرائیلی فوج اپنی زیادہ سے زیادہ حد تک پہنچ چکی ہے اور حکومت جنگ کے میدان میں فوجیوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نہ تو مناسب حکمتِ عملی رکھتی ہے اور نہ ہی ضروری وسائل
اس کے باوجود کم فوجیوں کو ایک بڑے محاذ پر تعینات کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریزرو فوجی شدید تھکن کا شکار ہیں اور موجودہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے قابل نہیں رہے۔یائر لیپڈ نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ
الٹرا آرتھوڈوکس حریدیم یہودیوں کو بھی فوج میں شامل کیا جائے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو مذہبی طور پر زیادہ سخت مانا جاتا ہے اور 1948 سے انہیں لازمی فوجی خدمات سے استثنٰی حاصل رہا ہے۔ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے
جب اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق فوج کے سربراہ جنرل ایال زمیر پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ اسرائیلی فوج کمزور پڑنے کے قریب ہے۔



