مکہ مکرمہ میں تاریخ کا پہلا انٹرنیشنل ایئرپورٹ منظور – ایئرپورٹ کو حرم کی حدود سے باہر تعمیر کیا جائے گا

سعودی عرب نے مکہ مکرمہ میں ایک بین الاقوامی ایئرپورٹ کے قیام کے منصوبے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جو اس مقدس شہر کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہوگا۔ رائل کمیشن فار مکہ سٹی اینڈ ہولی سائٹس (RCMC) کے سی ای او انجینئر صالح الراشد نے اس اہم پیش رفت کی تصدیق ہارورڈ بزنس ریویو عربیہ کے فروری تا مارچ 2026 کے شمارے میں شائع ایک انٹرویو میں کی۔
انجینئر صالح الراشد کے مطابق مکہ مکرمہ میں عالمی معیار کے مطابق ایئرپورٹ کے قیام کیلئے تفصیلی فزیبلٹی اسٹڈیز مکمل کرلی گئی ہیں، جبکہ اس منصوبے کی اسٹریٹجک، معاشی اور سرمایہ کاری سے متعلق سمتوں کی بھی باضابطہ منظوری دے دی گئی ہے۔ یہ اعلان مکہ کی ترقی کے ذمہ دار ادارے کے سربراہ کی جانب سے کیا گیا سب سے مستند بیان قرار دیا جا رہا ہے۔
رائل کمیشن کے مطابق اس منصوبے میں نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کی جائے گی، تاکہ ایئرپورٹ کے لیے بہترین سرمایہ کاری اور آپریشنل ماڈل کا تعین کیا جا سکے۔ مجوزہ ایئرپورٹ مکہ مکرمہ کے رہائشیوں کے ساتھ ساتھ ہر سال آنے والے لاکھوں حجاج اور عمرہ زائرین کی ضروریات کو پورا کرے گا، جبکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ یہ منصوبہ کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی معاشی اہمیت پر منفی اثر نہ ڈالے۔
واضح رہے کہ ماضی میں مکہ مکرمہ میں ایئرپورٹ کے قیام کی تجویز کو سعودی ہوا بازی حکام کی جانب سے مسترد کیا جاتا رہا ہے۔ مذہبی پابندیوں کے باعث بھی اس منصوبے میں رکاوٹ رہی، کیونکہ طیاروں کو خانہ کعبہ کے اوپر سے پرواز کی اجازت نہیں ہے۔
فی الحال بیرون ملک سے آنے والے زائرین کو King کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترنے کے بعد تقریباً 80 سے 90 کلومیٹر کا سفر طے کرکے مکہ مکرمہ پہنچنا پڑتا ہے، جس سے وقت، اخراجات اور سفری پیچیدگیاں بڑھ جاتی ہیں۔
حکام کے مطابق ابھی تک ایئرپورٹ کے حتمی مقام کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم یہ واضح کیا گیا ہے کہ ایئرپورٹ حدودِ حرم کے اندر تعمیر نہیں کیا جائے گا۔ ماضی میں 2019 کے دوران کیے گئے اعلانات میں Al-Faisaliyah منصوبے کو ممکنہ مقام قرار دیا گیا تھا، جو مکہ اور جدہ کے درمیان ایک نئے شہر کے طور پر ترقی دیا جا رہا ہے۔
یہ منصوبہ محض ایئرپورٹ تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس میں بندرگاہ اور دیگر سرکاری اداروں کے دفاتر بھی شامل ہوں گے، جس سے یہ ایک مکمل مربوط شہری اور انفراسٹرکچر منصوبہ بن جائے گا۔ اس سے قبل شہزادہ خالد الفیصل بھی مکہ کے مغرب میں ایک بڑے ترقیاتی منصوبے کا اعلان کر چکے ہیں، جس میں بین الاقوامی ایئرپورٹ اور بندرگاہ شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایئرپورٹ کو Haramain High-Speed Rail، ٹرام اور بس نیٹ ورک سے منسلک کیا جائے گا، تاکہ ایئرپورٹ اور مقدس مقامات کے درمیان ہموار اور تیز رابطہ قائم ہو سکے۔
اگرچہ فزیبلٹی اسٹڈیز مکمل ہو چکی ہیں اور منصوبے کی سمت کا تعین کر لیا گیا ہے، تاہم یہ منصوبہ ابھی ابتدائی منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری کے مرحلے میں ہے اور تعمیراتی ٹائم لائن کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس ایئرپورٹ کو کم لاگت والی ایئرلائنز کیلئے ڈیزائن کیا جائے گا، جس سے تعمیراتی اخراجات میں کمی اور مسافروں کی تیز تر آمد و رفت ممکن ہو سکے گی، برخلاف جدہ کے ایئرپورٹ کے جو اس مقصد کیلئے مخصوص نہیں ہے۔
یہ منصوبہ سعودی عرب کے وژن 2030 کا اہم حصہ ہے، جس کے تحت 2030 تک سالانہ 3 کروڑ عمرہ زائرین کی میزبانی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق مکہ مکرمہ میں براہ راست ایئرپورٹ کی موجودگی اس ہدف کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرے گی اور زائرین کے سفر کو نمایاں حد تک آسان بنا دے گی۔




