یہ جنگ کے اختتام کی علامت نہیں، ہماری انگلیاں اب بھی ٹریگر پر ہیں : سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای

امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے، تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ یہ جنگ کے خاتمے کا اعلان نہیں ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای نے جنگ بندی کے اعلان کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ "یہ جنگ کے اختتام کی علامت نہیں، ہماری انگلیاں اب بھی ٹریگر پر ہیں، اگر کسی بھی جانب سے جارحیت ہوئی تو پوری قوت سے جواب دیا جائے گا۔” ایرانی میڈیا کے مطابق انہوں نے تمام فوجی یونٹس کو فوری طور پر فائر بندی پر عمل کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی تجویز پر ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو کھولنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جس کے باعث اس مدت کے دوران کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ یہ مہلت ایران کے ساتھ مستقل امن معاہدے اور مشرق وسطیٰ میں استحکام کے قیام کی راہ ہموار کرے گی۔ ان کے مطابق ایران کی جانب سے پیش کی گئی 10 نکاتی تجاویز، جن میں ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنا، پابندیوں کا خاتمہ اور عدم جارحیت شامل ہے، مجموعی طور پر مثبت ہیں۔
اسی پیش رفت کے تحت ایران نے بھی جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں عارضی کمی کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔



