انٹر نیشنل

امریکی حکومت کے خلاف احتجاج: وائٹ ہاؤس کمیشن کی مسلم رکن سمیرا منشی مستعفی

امریکہ میں مذہبی آزادی سے متعلق کمیشن کی واحد مسلم رکن سمیرا منشی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

 

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ان کا استعفیٰ دو تشویشناک معاملات کے خلاف احتجاج ہے۔ پہلا یہ کہ کمیشن کی رکن کیری بریگن بولر کو فلسطین سے متعلق ان کے مؤقف کی وجہ سے برطرف کیا گیا، اور دوسرا ایران کے خلاف امریکی حکومت کی وہ جنگی کارروائیاں ہیں جو آئینی اجازت اور امریکی کانگریس کی منظوری کے بغیر کی جا رہی ہیں۔

 

انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکی انتظامیہ کی اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک پالیسیوں میں ہونے والی ناانصافیوں اور مظالم کے خلاف بطور احتجاج عہدہ چھوڑ رہی ہیں۔

 

اپنے تفصیلی بیان میں سمیرا منشی نے کہا کہ دو حالیہ واقعات نے انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور کیا۔ پہلا واقعہ کمیشن کی ایک رکن کو عہدے سے ہٹایا جانا تھا، جنہیں گزشتہ ماہ ایک سماعت کے دوران یہود دشمنی کے موضوع پر ہونے والی نشست کو ذاتی اور سیاسی ایجنڈے کے لیے استعمال کرنے کے الزام میں برطرف کیا گیا تھا۔

 

دوسری وجہ انہوں نے ایران کے خلاف امریکی حکومت کی جنگی کارروائیوں کو قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ جنگ واضح آئینی اجازت یا امریکی کانگریس کی منظوری کے بغیر شروع کی گئی، جسے انہوں نے غیر قانونی قرار دیا۔

 

سمیرا منشی، جو ایک معروف مسلم سماجی کارکن ہیں، کو 2025 میں وائٹ ہاؤس کی مذہبی آزادی کمیشن میں مشیر کے طور پر مقرر کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کے بعض ارکان کی جانب سے ان کے مذہب پر طنز کے باوجود انہوں نے یہ ذمہ داری اس امید کے ساتھ قبول کی تھی کہ وہ عام امریکی شہریوں کی مذہبی آزادی کے لیے ایک معتدل آواز بن سکیں۔

 

انہوں نے جاری جنگ پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت بچوں اور عام شہریوں کی غیر قانونی ہلاکتوں میں ملوث ہے۔ ان کے مطابق امریکی عوام اس جارحیت کے خلاف ہیں مگر ان کے ٹیکس کے پیسے بے گناہ فلسطینیوں اور اب ایرانیوں کے خلاف تشدد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

 

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ انتظامیہ کے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے آئین میں دی گئی آزادیٔ اظہار اور مذہبی آزادی کی ضمانتوں اور جنگی اختیارات سے متعلق آئینی اصولوں کی کوئی پرواہ نہیں۔

Oplus_131072

متعلقہ خبریں

Back to top button