انٹر نیشنل

ہندوستان اور ایران کے درمیان تیل کی تجارت دوبارہ شروع، 7 سال بعد آئے گا پہلا جہاز 

نئی دہلی: امریکہ نے 21 مارچ کو ایرانی خام تیل پر عائد پابندیوں کو ایک ماہ کے لیے معطل کر دیا تھا۔ مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے درمیان ایک آئل ٹینکر بھارت پہنچنے والا ہے جو 2019 کے بعد ایران سے بھارت کو تیل کی پہلی سپلائی ہوگی۔

 

اطلاعات کے مطابق امریکہ نے ان ایرانی ٹینکروں پر سے پابندیاں ہٹا دی تھیں جن میں پہلے سے تیل بھرا ہوا تھا تاکہ عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی بڑھائی جا سکے اور تیزی سے بڑھتی قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق یہ جہاز گجرات کے وادینار بندرگاہ کی طرف بڑھ رہا ہے۔

 

اس میں تقریباً 6 لاکھ بیرل ایرانی خام تیل موجود ہے،جو ایران کے اہم آئل ٹرمینل خارگ جزیرے سے لوڈ کیا گیا تھا۔ اس کے 4 اپریل کو پہنچنے کی توقع ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ کون سی بھارتی ریفائنری اس تیل کو استعمال کرے گی۔ماہرین کے مطابق اگرچہ ٹینکر بھارت کی طرف ہی آ رہا ہے لیکن اس کی منزل بدلنے کا امکان مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا

 

کیونکہ پابندیوں کے تحت کام کرنے والے ٹینکر اکثر اپنی منزل چھپانے کے لیے راستہ تبدیل کرتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اور ایران کے درمیان تیل کی تجارت دوبارہ شروع ہو چکی ہے۔ مئی 2019 کے بعد یہ پہلی سپلائی ہوگی اور ایسے وقت میں ہو رہی ہے

 

جب بھارتی ریفائنریز کو تیل کے ذخائر کی کمی کا سامنا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button