ایران جنگ کے لیے پینٹاگون کی 200 ارب ڈالر اضافی فنڈ کی مانگ

نئی دہلی: ایک سینئر امریکی عہدیدار کے مطابق پینٹاگون نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے لیے 200 ارب ڈالر کی اضافی رقم کی درخواست کی ہے۔ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ درخواست وائٹ ہاؤس کو بھیجی گئی ہے۔
یہ ایک بہت بڑی رقم ہے جو اس اضافی فنڈ کے علاوہ ہوگی جو محکمہ دفاع کو گزشتہ سال ڈونالڈ ٹرمپ کے ٹیکس کٹوتی بل کے تحت پہلے ہی مل چکی ہے۔ کانگریس ایک نئے اخراجاتی بل پر غور کر رہی ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ وائٹ ہاؤس نے اس درخواست کو آگے بڑھایا ہے یا نہیں
اور نہ ہی یہ طے ہے کہ اسے منظوری ملے گی۔واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اگر یہ فنڈ منظور ہو جاتا ہے تو 28 فروری سے شروع ہونے والے امریکی فوجی آپریشن کو مزید تقویت ملے گی اور جنگ میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔امریکہ اور اسرائیل نے تقریباً تین ہفتے قبل ایران کے خلاف فضائی حملے شروع کیے تھے۔
ان حملوں کا مقصد ایرانی نظامِ سکیورٹی کو تباہ کرنا بتایا جا رہا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اب تک 7,800 سے زائد اہداف پر حملے کیے جا چکے ہیں 8,000 سے زیادہ فضائی مشنز انجام دیے گئے ہیں اور 120 سے زائد ایرانی بحری جہازوں کو نقصان پہنچایا یا تباہ کیا گیا ہے۔
ابتدائی ہفتے میں ہی امریکہ نے اس جنگ پر 11 ارب ڈالر سے زائد خرچ کر دیے تھے۔ اگر مزید 200 ارب ڈالر کی منظوری مل جاتی ہے تو جنگی اخراجات ایران کی سالانہ مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے نصف سے بھی زیادہ ہو سکتے ہیں، جو 2025 میں تقریباً 356.51 ارب ڈالر تھی۔سینیٹ اپروپری ایشنز کمیٹی کے مطابق کانگریس
پہلے ہی مالی سال 2026 کے لیے 838.5 ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ کی منظوری دے چکی ہے۔واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، پینٹاگون نے وائٹ ہاؤس سے کہا ہے کہ وہ کانگریس سے 200 ارب ڈالر سے زائد کی منظوری حاصل کرے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ آخرکار کتنی رقم کی منظوری طلب کی جائے گی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے پر کانگریس میں بڑا سیاسی تنازع پیدا ہو سکتا ہے کیونکہ اس جنگ کے لیے عوامی حمایت محدود ہے اور ڈیموکریٹک پارٹی اس کی سخت مخالفت کر رہی ہے۔رپورٹس کے مطابق ریپبلکن پارٹی نے ممکنہ طور پر اس درخواست کی حمایت کا اشارہ دیا ہے لیکن ابھی تک کوئی واضح حکمت عملی یا سینیٹ کے 60 ووٹ حاصل کرنے کا راستہ سامنے نہیں آیا۔
ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران بیرونِ ملک امریکی مداخلت ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا اور جو بائیڈن حکومت کو یوکرین جنگ پر اخراجات کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ رپورٹس کے مطابق دسمبر تک کانگریس یوکرین جنگ کے لیے تقریباً 188 ارب ڈالر کی منظوری دے چکی تھی۔اگر ایران جنگ کے لیے یہ نئی رقم منظور ہو جاتی ہے تو یہ یوکرین میں امریکی فوجی اخراجات سے بھی زیادہ ہوگی۔
امریکہ-اسرائیل مشترکہ آپریشن شروع ہونے کے فوراً بعد ٹرمپ انتظامیہ نے جنگی اخراجات پورے کرنے کے لیے اضافی فنڈز کی تیاری شروع کر دی تھی تاکہ فوج عالمی سطح پر اپنی دفاعی تیاری برقرار رکھ سکے۔
رپورٹ کے مطاب، گولہ بارود کی کمی دور کرنے اور دفاعی صنعت کو تیز کرنے کے لیے مختلف مالی پیکجز تیار کیے گئے ہیں۔ ایران جنگ سے پہلے ہی ٹرمپ 1.5 ٹریلین ڈالر کے دفاعی بجٹ کی تجویز دے چکے تھے جو پچھلے سال کے مقابلے میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ہے۔



