انٹر نیشنل

ایران کے بندر عباس بندرگاہ پر زوردار دھماکہ، خطہ میں تشویش کی لہر

ایران کے اہم ساحلی شہر بندر عباس کی بندرگاہ پر ایک زبردست دھماکہ پیش آیا ہے، جس کے نتیجہ میں قریبی رہائشی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ دھماکے کی وجوہات تاحال معلوم نہیں ہو سکیں۔

 

سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ حملہ ایرانی ریولوشنری گارڈ نیوی کے ایک کمانڈر کو نشانہ بنا کر کیا گیا، تاہم مقامی سرکاری میڈیا نے ان خبروں کی تردید کی ہے اور انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔

 

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور جنگ کے خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں۔ اس پس منظر میں بندر عباس میں دھماکے نے خطے میں مزید سنسنی پھیلا دی ہے۔

 

واضح رہے کہ بندر عباس کی بندرگاہ آبنائے ہرمز میں واقع ہے، جو ایران اور عمان کے درمیان ایک نہایت اہم آبی گزرگاہ ہے۔ دنیا کی مجموعی تیل ترسیل کا تقریباً پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، جس کے باعث اس خطے کی اسٹریٹجک اہمیت غیر معمولی ہے۔

 

گزشتہ سال اپریل میں بھی بندر عباس کے قریب ایک بندرگاہ پر بڑے پیمانے پر دھماکہ ہوا تھا، جس میں سیکڑوں افراد کے زخمی ہونے کی خبریں سامنے آئی تھیں۔

 

دریں اثنا، اطلاعات ہیں کہ امریکی جنگی طیارے ایران کی سمت بڑھ رہے ہیں، جبکہ ایران نے بھی آبنائے ہرمز میں بحری مشقیں کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے علاقائی صورتحال مزید کشیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button