انٹر نیشنل

ریاض میں عرب اور مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس: ایران کے حملوں پر عرب و مسلم ممالک کا سخت مؤقف

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔

 

سعودی عرب کے دارالحکومت Riyadh میں عرب اور مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں خطے کی بگڑتی صورتحال پر غور کیا گیا۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا جب ایران کی جانب سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر میں توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو اسرائیلی حملوں کے ردعمل کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

 

اجلاس میں قطر، آذربائیجان، بحرین، مصر، اردن، کویت، لبنان، پاکستان، سعودی عرب، شام، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔ مشترکہ اعلامیے میں ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت کی گئی، جن میں رہائشی علاقوں، آئل تنصیبات، ہوائی اڈوں اور سفارتی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

 

اعلامیے میں اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کا حوالہ دیتے ہوئے ریاستوں کے حقِ دفاع پر زور دیا گیا۔ اجلاس کا مقصد ایران کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے خلاف مشترکہ حکمت عملی تیار کرنا تھا، کیونکہ یہ صورتحال نہ صرف علاقائی استحکام بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی خطرہ بن رہی ہے۔

 

دوسری جانب لبنان میں بھی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے، جہاں حالیہ جھڑپوں اور حملوں میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہو چکی ہیں، جس سے خطے میں مزید عدم استحکام کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button