روس ایران کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ پوتن کی ایران کے نئے سپریم لیڈر کو مبارکباد

نئی دہلی: ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب ہونے والے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے مبارکباد دی ہے۔ پوتن نے یقین دہانی کرائی کہ روس ایران کی حمایت میں کھڑا رہے گا۔ اس سلسلے میں پوتن نے پیر کے روز ایک بیان جاری کیا۔
اپنے پیغام میں پوتن نے کہا“ایران کے سپریم لیڈر منتخب ہونے پر مجتبیٰ کو مبارکباد۔ اس مشکل وقت میں روس ایران کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ ایران میں ہمارے دوستوں اور ان کی خودمختاری کے لیے روس کی حمایت جاری رہے گی۔ ہمیں امید ہے کہ مجتبیٰ اپنے والد کی وراثت کو آگے بڑھاتے ہوئے ایرانی عوام کو متحد کریں گے۔ جاری جنگ کے دوران قیادت کرنا آسان نہیں، اس کے لیے مجتبیٰ کو بڑی ہمت اور عزم کی ضرورت ہوگی۔”
ایک طرف جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مجتبیٰ کے انتخاب پر ناراضگی ظاہر کی ہے وہیں روس نے کھل کر ایران کی حمایت کی ہے۔ جنگ کے اس نازک وقت میں روس نے ایران کو اخلاقی حمایت دینے کا اعلان کیا ہے۔حال ہی میں روسی صدر پوتن نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے فون پر بات کی تھی۔ اس دوران انہوں نے حملوں میں ہلاک ہونے والے آیت اللہ خامنہ ای ان کے خاندان کے افراد، ایرانی عوام اور فوجیوں کے لیے تعزیت کا اظہار کیا جس پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پوتن کا شکریہ ادا کیا۔
واضح رہے کہ ایران کی اسمبلی نے حال ہی میں مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر منتخب کیا ہے۔ 1969 میں پیدا ہونے والے مجتبیٰ نے ایران میں ہی مذہبی علما کے پاس تعلیم حاصل کی ہے۔حالیہ اسرائیلی حملوں میں مجتبیٰ کے والد اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ان کی والدہ اور مجتبیٰ کی اہلیہ بھی ہلاک ہو گئی تھیں۔ مجتبیٰ کے منتخب ہونے کے بعد ان کے حامیوں نے ایران میں جشن منایا۔
دوسری جانب ایران۔اسرائیل جنگ کے دوران روس پر یہ الزامات بھی لگ رہے ہیں کہ وہ ایران کو انٹیلیجنس معلومات فراہم کر رہا ہے۔ امریکہ نے بھی روس پر اسی نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں۔



