سعودی ولی عہد سلمان نے اسرائیل سے تعلقات کی امریکی پیشکش مسترد — کہا فلسطینی ریاست کے بغیر تعلقات معمول پر لانا ممکن نہیں

سعودی ولی عہد سلمان نے اسرائیل سے تعلقات کی امریکی پیشکش مسترد — فلسطینی ریاست کے بغیر تعلقات معمول پر لانا ممکن نہیں
18 نومبر کو وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے ابراہیم معاہدے میں شمولیت اور اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی امریکی پیشکش کو دوٹوک انداز میں مسترد کردیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ فلسطین کے لیے قابلِ عمل اور مدت مقرر دو ریاستی حل کے بغیر کوئی معاہدہ ممکن نہیں۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے فوری طور پر معاہدے پر دستخط کے لیے دباؤ ڈالا، مگر ولی عہد نے کہا کہ غزہ جنگ کے بعد عوامی اور علاقائی جذبات نارملائزیشن کی اجازت نہیں دیتے۔ انہوں نے 1967 کی سرحدوں اور مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر آزاد فلسطینی ریاست کے مطالبے پر سعودی مؤقف برقرار رکھا۔
ملاقات کے دوران ماحول کشیدہ ضرور رہا لیکن احترام برقرار رہا۔ امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ مایوس ہوکر واپس گئے، تاہم ولی عہد نے مستقبل میں فلسطینی حقوق کی ضمانت ملنے پر بات چیت کے امکان کو مکمل طور پر مسترد بھی نہیں کیا۔
اگرچہ اسرائیل سے تعلقات پر کوئی پیشرفت نہ ہوسکی، دونوں ممالک نے دفاعی اور معاشی تعاون، ایف۔35 لڑاکا طیاروں اور بڑے سرمایہ کاری منصوبوں پر بات چیت کی۔
یہ 2018 کے بعد محمد بن سلمان کا پہلا سرکاری دورۂ واشنگٹن تھا، جس میں تین روز تک دو طرفہ اسٹریٹجک تعاون پر تبادلۂ خیال جاری رہا۔ سعودی عرب کا فیصلہ ایک بار پھر واضح کرتا ہے کہ فلسطینی ریاست کے مسئلے پر پیش رفت کے بغیر وہ اسرائیل سے تعلقات معمول پر نہیں لائے گا۔



