انٹر نیشنل

امریکی صدر کی رہائش گاہ کے قریب فائرنگ – دو سیکورٹی گارڈ زخمی ؛ جوابی فائرنگ میں حملہ آور بھی زخمی

واشنگٹن ڈی سی میں واقع امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی سرکاری رہائش گاہ وائٹ ہاؤس سے چند بلاکس کے فاصلے پر ہونے والی فائرنگ نے پورے امریکہ کو ہلا کر رکھ دیا،

 

جہاں نیشنل گارڈ کے دو جوان   فائرنگ میں  شدید زخمی ہوگئے ۔ فائرنگ کرنے والے حملہ آور کی شناخت 29 سالہ افغان نژاد رحمان اللہ لکانوال کے طور پر ہوئی ہے۔

 

امریکی میڈیا کے مطابق لکانوال 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا کے دوران آپریشن الائز ویلکم کے تحت امریکہ منتقل ہوا اور ریاست واشنگٹن کے شہر بیلنگ ہام میں آباد تھا۔ پولیس اور ایف بی آئی کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق لکانوال دوپہر 2 بج کر 15 منٹ پر فیرگیٹ ویسٹ میٹرو اسٹیشن کے قریب گھات لگائے بیٹھا تھا اور جیسے ہی گشت پر مامور نیشنل گارڈ کے جوان وہاں پہنچے تو اس نے اچانک سامنے آ کر خاتون گارڈ پر سینے اور پھر سر پر فائر کیا،

 

اس کے بعد دوسرے گارڈ پر بھی اندھا دھند گولیاں برسائیں۔ اسی دوران قریب موجود تیسرے نیشنل گارڈ نے جوابی فائرنگ کی جس سے حملہ آور زخمی ہو کر گر پڑا، اسے چار گولیاں لگیں اور پولیس نے نیم برہنہ حالت میں ایمبولینس کے ذریعہ ہاسپٹل منتقل کیا۔ زخمی دونوں نیشنل گارڈ اہلکاروں کو بھی فوری ہاسپٹل منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت تشویشناک ہے

 

۔ ایف بی آئی نے اس حملے کو ممکنہ دہشت گرد کارروائی قرار دے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور اکیلا تھا اور نامعلوم وجہ سے فائرنگ کی گئی۔

 

واشنگٹن کی میئر میوریل باؤزر نے اسے ’’ٹارگٹڈ شوٹنگ‘‘ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی، جبکہ سیکریٹری آف وار پیٹ ہیگسیٹھ نے اعلان کیا کہ صورتحال کے پیش نظر واشنگٹن ڈی سی میں مزید 500 نیشنل گارڈ تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے

 

۔ ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ وفاقی قانون نافذ کرنے والے ادارے پر حملہ ہے لہٰذا مقدمہ وفاقی سطح پر چلایا جائے گا۔ اس وقت واشنگٹن ڈی سی میں تقریباً 2,400 نیشنل گارڈ تعینات ہیں جن میں 958 ڈی سی نیشنل گارڈ اور 1,300 اہلکار آٹھ دیگر ریاستوں سے شامل ہیں اور ان کی تعیناتی گرمیوں 2026 تک بڑھا دی گئی ہے،

 

جبکہ ملک میں اس مسئلے پر سیاسی تنازعہ برقرار ہے جہاں حکومت اس تعیناتی کو جرائم پر قابو پانے کے لیے مؤثر قرار دیتی ہے جبکہ مخالفین کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں میں بیرونی فوج کی طویل موجودگی سول اور عسکری اختیارات کی حد بندی کو مشکوک بنا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button