انٹر نیشنل

امریکہ میں ایک بار پھر شٹ ڈاون

نئی دہلی ۔ امریکی حکومت ایک بار پھر جزوی شٹ ڈاؤن کا شکار ہو گئی ہے۔ 2026 کے بجٹ کی منظوری کے لیے مقرر کی گئی آخری تاریخ آدھی رات کو ختم ہو گئی جس کے نتیجے میں سرکاری سرگرمیاں جزوی طور پر معطل ہو جائیں گی۔ بین الاقوامی میڈیا نے ہفتے کے روز اس بات کی تصدیق کی ہے۔

 

حال ہی میں منی ایپولس میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے اہلکاروں کی فائرنگ میں دو مظاہرین کی ہلاکت کے بعد سینیٹ کے ڈیموکریٹس نے شدید غصے کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا “امریکی عوام قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حمایت کرتے ہیں، سرحدی حفاظتی فورسز کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں لیکن سڑکوں پر خوف پھیلانے والے اور امریکی شہریوں کو قتل کرنے والے ICE اہلکاروں کو برداشت نہیں کریں گے۔”

 

اس سخت ردِعمل کے نتیجے میں ہوم لینڈ سیکیورٹی اور دیگر محکموں کی فنڈنگ رکنے کا امکان ہے۔تاہم قانون سازوں کا کہنا ہے کہ یہ شٹ ڈاؤن جزوی ہے اور آئندہ ہفتے ان فنڈنگ بلز پر دوبارہ بات چیت کی جائے گی۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال یکم اکتوبر کو بھی امریکی حکومت شٹ ڈاؤن کا شکار ہوئی تھی، جو ملکی تاریخ کا طویل ترین شٹ ڈاؤن ثابت ہوا اور 43 دن تک جاری رہا۔

 

امریکہ میں شٹ ڈاؤن کب شروع ہو اور کب ختم ہو، اس کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ 1981 کے بعد سے امریکی حکومت 16 مرتبہ شٹ ڈاؤن ہو چکا ہے۔ 2018–19 کے دوران تقریباً 35 دن تک شٹ ڈاؤن رہا اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ صدر تھے۔

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button