تہران نے ریاض میں امریکی سفارتخانے کو نشانہ نہیں بنایا۔ ایرانی سفیر کا انکشاف

کے این واصف
ریاض میں ایرانی سفیر نے ایک اہم انکشاف کے ذریعہ امریکہ اور اسرائیل کی دہری و گھٹیا عمل کا پردہ فاش کیا۔ سعودی عرب میں ایران کے سفیر علی رضا عنایتی نے کہا ہے کہ تہران، سعودی عرب کے اس وعدے کی ستائش کرتا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے دوران اپنی فضائی حدود یا سرزمین کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہم نے سعودی عرب کی طرف سے بار بار جو سنا اس کی ستائش کرتے ہیں کہ وہ اپنی فضائی حدود، سمندر یا سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔جنگ کے آغاز سے پہلے ریاض نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی سفارتی کوششوں کی سپورٹ کی تھی اور کہا تھا کہ اس کی فضائی حدود کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔
ایرانی سفیر نے اس ہفتے ریاض میں میں امریکی سفارتخانے پر حملے کی سختی سے تردید کی جبکہ سعودی حکام کا کہنا ہے ایران نے سفارتی کمپاونڈ کو ڈرون سے نشانہ بنایا۔سعودی عرب نے بارہا تہران پر میزائل اور ڈرون حملے کرنے کا الزام عائد کیا اور خبردار کیا کہ سعودی عرب جوابی کارروائی سمیت اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ایران نے اس سے قبل مشرق وسطی کی سب سے بڑی ریفائنری راس تنورہ پر حملے کی بھی تردید کی تھی جس پر ریاض نے تہران پر دو مرتبہ ڈرون سے حملہ کرنے کا الزام لگایا تھا۔علی رضا عنایتی نے کہا کہ ایران کا امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنانے میں بھی کوئی ہاتھ نہیں تھا جس سے کمپاونڈ میں آگ لگی۔ہم نے تصدیق کی ہے کہ ریاض میں امریکی سفارتخانے پر حملے میں ایران کا کوئی کردار نہیں ہے۔ اگر تہران میں آپریشنز کمانڈ کہیں کوئی حملہ کرتا ہے تو وہ اس کی ذمہ داری قبول بھی کرتا ہے۔
ایرانی سفیر نے اس بات کی بھی تردید کی کہ ایران امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں علاقائی جنگ چھیڑ رہا ہے۔ان کے بقول یہ کوئی علاقائی جنگ نہیں اور نہ ہماری جنگ ہے، یہ خطے پر مسلط کی گئی جنگ ہے۔



