انٹر نیشنل

” میں جنگ کی حمایت نہیں کرسکتا” اہم امریکی عہدیدار ایران کے ساتھ جنگ کے خلاف بطور احتجاج مستعفیٰ

نئی دہلی: ایران کے ساتھ جنگ جاری رکھنے کے دوران امریکہ کے ایک اہم عہدیدار نے اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ٹرمپ حکومت کی اس جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے۔ “نیشنل کاؤنٹر ٹیررزم سینٹر” (NCTC) کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے بتایا کہ وہ اس عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں۔

 

انہوں نے “ایکس” پر ایک پوسٹ میں لکھا“ہمارے ملک کو ایران سے کوئی فوری خطرہ نہیں تھا۔ یہ واضح ہے کہ ہم نے یہ جنگ اسرائیل اور اس کی طاقتور امریکی لابی کے دباؤ کی وجہ سے شروع کی ہے۔”جو کینٹ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خط لکھ کر کہا کہ انہوں نے کافی سوچ بچار کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے لکھا “میں نے ماضی میں تین صدارتی انتخابات کے دوران آپ کی مہم میں پیش کیے گئے

 

اقدار اور آپ کے پہلے دورِ حکومت کی خارجہ پالیسی کی حمایت کی تھی۔ آپ نے بھی گزشتہ سال جون تک یہ سمجھا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں جال کی طرح ہوتی ہیں جو نہ صرف ہمارے شہریوں کی جانیں لیتی ہیں بلکہ ملک کی دولت کو بھی کمزور کرتی ہیں۔لیکن دوسری حکومت کے آغاز میں اسرائیل کے اعلیٰ حکام اور امریکی میڈیا کے کچھ بااثر افراد نے ایران کے بارے میں غلط پروپیگنڈا شروع کیا جس نے ‘امریکہ فرسٹ’ کے نعرے کو مکمل طور پر نقصان پہنچایا اور ہمیں ایران کے ساتھ جنگ کی طرف دھکیلا۔

 

انہوں نے یہ باور کرایا کہ ایران امریکہ کے لیے فوری خطرہ بن چکا ہے اور اگر ابھی حملہ کیا جائے تو تیزی سے کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے”  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کاؤنٹر ٹیررازم ڈائریکٹر جو کینٹ کے استعفیٰ کے بارے میں اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ’میں انھیں اچھی طرح نہیں جانتا تھا لیکن جب میں نے ان کا بیان پڑھا تو مجھے احساس ہوا کہ ان کا جانا بہتر ہے۔‘

 

یاد رہے کہ امریکہ کے انسداد دہشت گردی سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے ایران کے خلاف حملے پر بطور احتجاج مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ایران میں جاری جنگ کی اپنے ضمیر کے خلاف جا کر حمایت نہیں کر سکتے۔ٹرمپ نے ان کے الزامات کے جواب میں کہا ہے کہ ’میں نے ان کا بیان پڑھا۔ میں ہمیشہ سمجھتا تھا کہ وہ اچھے انسان ہیں لیکن سکیورٹی کے معاملے میں کمزور تھے، بہت کمزور۔‘

 

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’میں انھیں اچھی طرح نہیں جانتا تھا لیکن جب میں نے ان کا بیان پڑھا تو مجھے احساس ہوا کہ ان کا جانا بہتر ہے کیونکہ انھوں نے کہا کہ ایران کوئی خطرہ نہیں تھا۔‘ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ایران ایک خطرہ تھا، ہر ملک نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ایران کتنا بڑا خطرہ ہے۔‘ ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ

 

’چونکہ ہمیں اس قدر عسکری کامیابی ملی ہے ہمیں نیٹو ممالک کی مدد کی ضرورت نہیں اور نہ ہی ہمیں اس کی خواہش ہے۔ ہمیں کبھی ان کی ضرورت نہیں تھی۔‘ ٹرمپ نے اس پیغام میں جاپان، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا کا بھی ذکر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں اتحادی ممالک کے اقدام سے حیرت نہیں ہوئی‘۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button