انٹر نیشنل

ٹرمپ کی جنگی پالیسیوں کے خلاف امریکہ سے یورپ تک عوام سڑکوں پر، لاکھوں افراد کا زبردست احتجاج – تاریخ کا سب سے بڑا احتجاج

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جنگی پالیسوں اور طرزِ حکمرانی کے خلاف امریکہ اور یورپ میں شدید احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ امریکہ بھر کی 50 ریاستوں میں تقریباً 3,200 احتجاجی پروگرام منعقد کئے گئے، جن میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ خاص طور پر واشنگٹن، لاس اینجلس، ڈیلاس، فلاڈیلفیا اور نیویارک جیسے بڑے شہروں میں زبردست مظاہرے دیکھنے میں آئے، جہاں مظاہرین نے ٹرمپ مخالف پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے۔

 

مظاہرین نے شہری حقوق، امیگریشن پالیسی اور ایران کے خلاف جنگ میں امریکی فوج کے کردار جیسے حساس مسائل پر سخت آواز بلند کی۔ امریکی میڈیا کے مطابق، ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ سب سے بڑے احتجاجات میں شمار کئے جا رہے ہیں۔ ان مظاہروں کا مرکز ریاست مینیسوٹا رہی، جہاں اس کے دارالحکومت سینٹ پال میں ایک بڑی ریلی منعقد ہوئی۔

 

ریاست کے گورنر ٹم والز نے ان مظاہروں پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ عوامی جمہوری اقدار کی عکاسی کرتے ہیں۔ دوسری جانب لاس اینجلس میں واقع فیڈرل حراستی مرکز کے باہر مظاہرین کی جانب سے اشیاء پھینکے جانے پر سکیورٹی فورسز کو آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا، جبکہ ڈیلاس میں کشیدگی کے باعث متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا۔

 

ادھر ریپبلکن پارٹی کے رہنماؤں نے ان مظاہروں کو سیاسی طور پر محرک قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے۔ دوسری جانب یورپ کے بڑے شہروں لندن، پیرس اور روم میں بھی ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button