امریکہ پھنس گیا،ٹرمپ کے مشیروں نے ایران سے جنگ ختم کرنے کا منصوبہ پوچھ لیا

نئی دہلی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بعض مشیر ان سے ایران کے ساتھ جاری جنگ سے نکلنے کے لیے واضح منصوبہ بنانے اور اس کا اعلان کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ایران نے اس جنگ میں امریکہ کو بری طرح الجھا دیا ہے جس کے باعث آئندہ وسط مدتی انتخابات پر اس کے اثرات کے بارے میں خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔
ایران کے ساتھ جاری جنگ کے معاملے پر اب خود ٹرمپ کے چند قریبی مشیر ان پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے بعض قریبی مشیر شخصی طور پر انہیں مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ ایران جنگ سے نکلنے کے لیے ایک واضح ایگزٹ پلان (جنگ ختم کرنے کا منصوبہ) عوام کے سامنے پیش کریں۔
اگرچہ وائٹ ہاؤس نے اس رپورٹ کی تردید کی ہے تاہم ٹرمپ کے دو بیانات سے اس کی کچھ حد تک تصدیق ہوتی ہے۔ انہوں نے پیر کے روز کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی اور امریکہ اس جنگ میں وقت سے آگے چل رہا ہے۔وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق مشیروں کا ماننا ہے کہ امریکی فوج اس مہم میں اپنے کئی بڑے فوجی اہداف بڑی حد تک حاصل کر چکی ہے، اس لیے عوام کو یہ پیغام دینا ضروری ہے کہ جنگ کے مقاصد تقریباً پورے ہو چکے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اس جنگ کے اہم اہداف کئی سطحوں پر طے کیے گئے تھے۔ ان میں ایران کے میزائل پروگرام کو تباہ کرنا، اس کی بحریہ کو کمزور کرنا، مشرق وسطیٰ میں ایران کی حمایت یافتہ پراکسی گروپوں کی فوجی طاقت ختم کرنا اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا شامل ہے۔امریکہ اور اس کا اتحادی اسرائیل کچھ عرصے سے ایران کے فوجی ٹھکانوں، میزائل اڈوں اور بحری تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔
پینٹاگون کے اندازے کے مطابق اس جنگی مہم پر امریکہ کا خرچ تقریباً روزانہ ایک ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جس کے اثرات امریکی معیشت اور سیاسی ماحول پر بھی پڑ رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے بعض مشیروں کو خدشہ ہے کہ اگر جنگ طویل ہو گئی تو اس سے صدر کی مقبولیت متاثر ہو سکتی ہے۔ فی الحال ریپبلکن پارٹی کے بیشتر رہنما ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی حمایت کر رہے ہیں، لیکن پارٹی کے اندر بھی آنے والے مڈٹرم انتخابات کو لے کر تشویش پائی جا رہی ہے۔
خدشہ یہ ہے کہ مہنگائی کے مسئلے کی وجہ سے ٹرمپ کے حامی بھی ان سے دور ہو سکتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی ریپبلکن رہنماؤں نے مشیروں سے فون پر رابطہ کر کے پوچھا ہے کہ اس جنگ کے سیاسی اثرات کیا ہوں گے اور اس سے ووٹروں کا رجحان کس سمت جا سکتا ہے۔ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھنے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔ امریکہ میں پیٹرول اور گیس مہنگی ہونے لگی ہے جس سے مہنگائی کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔
اسی وجہ سے ٹرمپ کے بعض مشیر چاہتے ہیں کہ حکومت جنگ کے بارے میں زیادہ جارحانہ عوامی پیغام دے تاکہ لوگوں کو یقین دلایا جا سکے کہ یہ مہم ضروری اور کامیاب ہے۔ اسی لیے ٹرمپ بار بار یہ کہتے رہے ہیں کہ ایران یہ جنگ ہار چکا ہے اور وہ روزانہ ایران کو سخت دھمکیاں بھی دیتے ہیں۔حال ہی میں کیے گئے ایک عوامی سروے کے مطابق امریکہ میں ایران کے خلاف جنگ کی حمایت صرف 25 فیصد لوگوں نے کی۔ کئی سروے یہ بھی بتاتے ہیں کہ حمایت اور مخالفت بڑی حد تک پارٹی بنیادوں پر تقسیم ہے۔
ریپبلکن ووٹرز میں اس جنگ کی حمایت زیادہ ہے جبکہ ڈیموکریٹک حامیوں میں مخالفت زیادہ دیکھی جا رہی ہے۔ رائٹرز کے ایک سروے میں واضح کہا گیا تھا کہ زیادہ تر لوگ جنگ کے خلاف ہیں۔انتظامیہ کے سینئر حکام کا کہنا ہے کہ جب تک ایران خطے کے ممالک پر حملے کرتا رہے گا اور اسرائیل ایران کے اندر فوجی ٹھکانوں پر کارروائی جاری رکھنا چاہے گا، تب تک جنگ کے ختم ہونے کے امکانات کم ہیں۔ایران بار بار کہہ رہا ہے کہ وہ اپنی مرضی کے بغیر اس جنگ کو ختم نہیں ہونے دے گا۔
اس کے مطابق جنگ کی شروعات امریکہ اور اسرائیل نے کی ہے لیکن اس کا اختتام ایران کرے گا۔ جنگ کے خاتمے کی کوئی واضح مدت نہ ہونے کے باعث یہ اب ایک معاشی جنگ کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے، جس کے اثرات امریکہ، اسرائیل اور خلیجی ممالک پر بھی نظر آ رہے ہیں۔



