انٹر نیشنل

جنگ پر ٹرمپ کے متضاد بیانات، جنگ ختم کرنے کا فیصلہ ہم کریں گے۔ ایران کا جواب

نئی دہلی: ایران کے ساتھ جاری جنگ کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی حد تک پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک ہی دن میں ان کے دو مختلف بیانات سامنے آئے۔ پہلے انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ تقریباً ختم ہو چکی ہے لیکن بعد میں کہا کہ ابھی مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز ایران کے ساتھ جاری جنگ کے تقریباً اختتام کی طرف اشارہ کیا لیکن چند گھنٹوں بعد ہی انہوں نے اپنا بیان بدل دیا جس سے دونوں بیانات میں واضح تضاد پیدا ہو گیا۔ امریکی میڈیا نے بھی ان بیانات کے اس تضاد کو نمایاں کیا ہے اور اس کے مختلف معنی نکالے جا رہے ہیں۔

 

ٹرمپ نے سی بی ایس نیوز کی وائٹ ہاؤس نامہ نگار ویجیا جیانگ کو فون پر بتایا کہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی تہران کے خلاف “بہت آگے” بڑھ چکی ہے اور جنگ “تقریباً مکمل” ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا“میرا خیال ہے کہ جنگ کافی حد تک مکمل ہو چکی ہے۔ ان کے (ایران کے) پاس نہ بحریہ رہی ہے، نہ مواصلاتی نظام اور نہ ہی فضائیہ۔”

 

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ جنگ اپنے طے شدہ وقت سے کہیں آگے بڑھ چکی ہے۔ انہوں نے پہلے اندازہ لگایا تھا کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی یہ جنگ تقریباً 4 سے 5 ہفتے تک جاری رہے گی۔تاہم چند گھنٹوں بعد ریپبلکن ارکان کے ایک اجلاس میں ٹرمپ نے کہا“ہم کئی لحاظ سے پہلے ہی جیت چکے ہیں، لیکن ابھی ہم نے کافی حد تک فتح حاصل نہیں کی۔”

 

انہوں نے زور دے کر کہا کہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران کو “مکمل اور فیصلہ کن شکست” نہیں دی جاتی۔ پاسداران انقلاب نے ٹرمپ کے اس بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا جس میں انہوں نے جنگ کے جلد ختم ہونے کی بات کی تھی۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آئی آر جی سی کے ترجمان نے کہا کہ اس جنگ کا اختتام ایران ہی طے کرے گا۔

 

اس خصوصی نیم فوجی فورس نے، جو ایران کے شیعہ نظامِ حکومت کے ساتھ وفاداری رکھتی ہے، خبردار کیا کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو تہران خطے سے “ایک لیٹر تیل بھی برآمد نہیں ہونے دے گا۔جنگ کے باعث آبنائے ہرمز مؤثر طور پر بند ہو چکی ہے۔ اس راستے سے دنیا کے تیل اور ایل این جی کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل ہوتی ہے۔

 

ایک ہفتے سے زیادہ عرصے سے آئل ٹینکر وہاں سے گزر نہیں پا رہے، جس کے باعث پیدا کرنے والے ممالک کو تیل کی پیداوار کم کرنا پڑ رہی ہے کیونکہ ذخیرہ گاہیں بھر چکی ہیں۔اس تنازع کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل سے بھی اوپر پہنچ گئی ہیں جو 2022 کے بعد سب سے بڑا اضافہ ہے۔ قیمتیں کم از کم 119 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہیں۔

 

پیر کے روز ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر تہران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے لکھا“اگر ایران آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی روکنے کی کوشش کرتا ہے تو امریکہ انہیں اب تک سے بیس گنا زیادہ تباہ کرے گا۔ ہم ایسے اہداف کو نشانہ بنائیں گے کہ ایران کا دوبارہ ایک قوم کے طور پر کھڑا ہونا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ ان پر موت اور آگ کی بارش ہوگی۔ لیکن میں امید اور دعا کرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو۔”

 

اس جنگ میں ہلاکتوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ایران کے اقوام متحدہ میں سفیر امیر سعید ایروانی کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں اب تک ایران کے کم از کم 1332 شہری ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔لبنان میں بھی، جہاں اسرائیل ایران کے حمایت یافتہ گروہ حزب اللہ کے خلاف متوازی فوجی کارروائی کر رہا ہے، 400 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ تقریباً 7 لاکھ لوگ اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

 

یہ جنگ 28 فروری 2026 کو شروع ہوئی تھی اور اب اس کے اثرات علاقائی اور عالمی معیشت پر بھی گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ ٹرمپ کے متضاد بیانات کی وجہ سے جنگ کے خاتمے کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button