کم عمر بچوں کا غیر قانونی نکاح پڑھانے پر امام کو 15 ہفتوں کی قید کی سزا – برطانیہ کی ایک عدالت کا فیصلہ
برطانیہ کی نارتھمپٹن کراؤن کورٹ نے دو کم عمر بچوں کی غیر قانونی شادی کا نکاح پڑھانے کے معاملے میں ایک امام کو قید کی سزا سنائی ہے۔ نارتھمپٹن کی کراؤن عدالت نے سماعت کے بعد امام کو 15 ہفتوں کی قید کی سزا سنائی، تاہم اس سزا کو 12 ماہ کے لیے معطل رکھا گیا ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ 52 سالہ امام اشرف عثمانی نے نومبر 2023 میں نارتھمپٹن کی ایک مرکزی مسجد میں دو سولہ سالہ نوجوانوں کا نکاح پڑھایا، حالانکہ انگلینڈ میں شادی کی کم از کم عمر بڑھا کر 18 سال مقرر کی جا چکی تھی۔ اشرف عثمانی نے عدالت کو بتایا کہ انہیں قانون میں 9 ماہ قبل ہونے والی اس تبدیلی کا علم نہیں تھا۔
سماعت کے دوران جج نے تسلیم کیا کہ اس معاملے میں کسی قسم کا تشدد یا دباؤ شامل نہیں تھا اور دونوں نوعمر نوجوان اپنی مرضی سے امام کے پاس آئے تھے۔ عدالت کے مطابق ان نوجوانوں کو پہلے ایک اور مسجد سے واپس لوٹا دیا گیا تھا، جس کے بعد انہوں نے اشرف عثمانی سے رجوع کیا۔ امام نے غیر قانونی مگر شرعی طور پر نکاح کی رسم ادا کی اور نکاح نامے کے لیے 50 پاؤنڈ فیس لی۔
عدالت نے بتایا کہ نکاح کے بعد دونوں نوجوانوں نے اپنے دوستوں کے ساتھ جشن منایا ۔ دفاع کی جانب سے وکیل نے کہا کہ اشرف عثمانی نے 20 برس کے دوران نکاح کرانے میں صرف ایک ہی غلطی کی۔ ان کے مطابق امام نے پاسپورٹس دیکھ کر تاریخِ پیدائش کی جانچ کی، درخواست فارم مکمل کیا اور مسجد کے رجسٹر میں درست اندراج کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ قانون میں تبدیلی سے لاعلم تھے۔
تاہم جج نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ امام کا رویہ غفلت پر مبنی تھا اور انہیں قانون میں ہونے والی تبدیلی سے آگاہ ہونا چاہیے تھا۔ فیصلہ سنائے جانے کے بعد اشرف عثمانی خاموشی سے عدالت سے روانہ ہو گئے اور انہوں نے اپنے چہرے کو ہاتھوں اور اسکارف سے ڈھانپ لیا۔



