جنگ کے اثرات۔ویڈیو کالس، ای میلس، بینک کے لین دین اور اے آئی سروسیس کیلئے ضروری زیرسمندر کیبلس خطرے میں!

نئی دہلی: مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں مختلف ممالک نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں موجود کیبلس کو جبکہ حوثی باغی بحیرۂ احمر میں باب المندب کی آبی گزرگاہ میں زیرِ سمندر کیبلس (انڈر سی کیبلس) کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
ویڈیو کالس، ای میلس، بینک کے لین دین اور اے آئی سروسیس کے تسلسل کے لیے یہ کیبلس عالمی انٹرنیٹ کے لیے نہایت اہم ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر مرکزی حکومت نے سب سی کیبل آپریٹرس اور ٹیلی کام کمپنیوں کو اہم ہدایات جاری کی ہیں۔سرکاری ذرائع کے مطابق اگر سمندری کیبلس میں خلل پیدا ہو تو ہندوستان کو ہونے والے ممکنہ نقصان کا اندازہ لگا کر اس کے مطابق منصوبہ بندی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
اس سلسلے میں محکمۂ ٹیلی کمیونیکیشنس نے مختلف کمپنیوں کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس بھی منعقد کیا۔ حکام نے بتایا کہ بھارت سے امریکہ اور یورپ جانے والے ڈیٹا ٹریفک کا تقریباً ایک تہائی حصہ ہرمز کی آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے اگرچہ اس ٹریفک کا کچھ حصہ سنگاپور کے راستے موڑا جا سکتا ہے لیکن اس کی صلاحیت محدود ہے۔
مزید برآں، اس متبادل راستے کی لاگت بھی زیادہ ہے۔ اگر بحرالکاہل (پیسفک) کو متبادل راستہ بنایا جائے تو فاصلے کی زیادتی کے باعث ڈیٹا پروسیسنگ کی رفتار سست ہو سکتی ہے۔ سمندری بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ایران کے ساتھ سفارتی بات چیت کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
بھارتی انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی ادارے کے افسر ہرش رام نے کہا کہ حملوں کے باعث سمندر میں موجود اندرونی نیٹ ورک کیبلز کے مکمل طور پر تباہ ہونے کا امکان کم ہے۔ تاہم اگر کیبلز کو نقصان پہنچتا ہے تو اس سے مالی لین دین، سوشل میڈیا، ای کامرس اور آئی ٹی سرگرمیوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔



