انٹر نیشنل

ایران کے بحری جہاز پر امریکہ کا حملہ 87 ہلاک

نئی دہلی: اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ کرنے والے امریکہ کی جانب سے اب ایرانی جہازوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں سری لنکا کے ساحل کے قریب ایران کے جنگی بحری جہاز آئی آر آئی ایس دینا (IRIS Dena) پر آبدوز کے ذریعے حملہ کیا گیا۔

 

اس حملے سے متعلق ویڈیو امریکی محکمۂ دفاع نے سوشل میڈیا پر جاری کی ہے۔ایرانی جنگی جہاز میں 180 اہلکار سوار تھے۔ سری لنکا نیوی کے مطابق 87 افراد کی نعشیں برآمد کی گئی ہیں جبکہ مزید 32 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔ بحریہ کے ترجمان نے بتایا کہ جب وہ موقع پر پہنچے تو وہاں جہاز موجود نہیں تھا صرف لائف جیکٹس اور تیل کے دھبے نظر آئے۔

 

سری لنکن حکام کا کہنا ہے کہ بحریہ اور فضائیہ مشترکہ طور پر تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔زخمیوں میں بعض کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی ہیں جبکہ کچھ کو جلنے کے زخم اور خراشیں آئی ہیں۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق چند زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ کچھ اہلکار پانی کی سطح پر تیرتے ہوئے دکھائی دیے۔ بچائے گئے افراد کو ہاسپٹل منتقل کر دیا گیا ہے جن میں سے بعض کو فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔سری لنکا میں گالے بندرگاہ کے قریب ایرانی بحریہ کا جنگی جہاز ڈوبنے کے بعد بحرِ ہند میں بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن جاری ہے۔حادثے کا شکار ہونے والا جہاز آئی آر آئی ایس دینا ایران کی بحریہ کے 86ویں بیڑے کا حصہ تھا۔

 

یہ مکمل طور پر ایرانی ساختہ جنگی جہاز ہے۔نور اور قدر اینٹی شپ میزائلوں سے لیس اس بحری جہاز کی لمبائی تقریباً 95 میٹر اور وزن قریباً 1500 ٹن ہے جب کہ اس میں 76 ایم ایم فجر 27 نیول گن اور 30 ایم ایم ہتھیار نصب تھے۔یہ جہاز 2022 سے 2023 کے دوران

 

تقریباً 65 ہزار کلومیٹر کا عالمی بحری سفر کر چکا ہے اور اسے ایرانی بحری طاقت کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button