ایران کے سامنے امریکہ کی بڑی شرطیں – امن کے نام پر نیا عالمی دباؤ بے نقاب
مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ نے ایران کے ساتھ پس پردہ بات چیت تیز کر دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق جنگ بندی کے لیے 15 نکاتی منصوبہ تہران کو بھیجا گیا ہے، جبکہ اسی دوران امریکہ خطے میں مزید فوجی دستے تعینات کرنے کی تیاری بھی کر رہا ہے۔
امریکی میڈیا، خصوصاً نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ امن منصوبہ پاکستان کے نمائندوں کے ذریعے ایران تک پہنچایا گیا۔ حیران کن طور پر اس سیز فائر پلان کے بارے میں اسرائیل کو پیشگی اطلاع نہیں دی گئی۔ تاہم وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس خبر پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
اہم شرائط کیا ہیں؟
امریکی منصوبے میں ایران کے لیے کئی سخت شرائط رکھی گئی ہیں:
ایران کو اپنی جوہری صلاحیت مکمل طور پر ختم کرنی ہوگی
نطنز، اصفہان اور فوردو کے ایٹمی مراکز تباہ کرنے ہوں گے
ایران کو ہمیشہ کے لیے ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کی ضمانت دینی ہوگی
ملک میں کسی قسم کی جوہری افزودگی نہیں ہوگی
تقریباً 450 کلوگرام یورینیم بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے حوالے کرنا ہوگا
آبنائے ہرمز کو کھول کر عالمی جہازرانی کے لیے فری کوریڈور بنانا ہوگا
میزائل پروگرام کو محدود کر کے اس کی رینج اور تعداد کم کرنی ہوگی
بدلے میں امریکہ کی پیشکش
اگر ایران ان شرائط کو قبول کرتا ہے تو:
عالمی پابندیاں مکمل طور پر ختم کرنے کی یقین دہانی
پرامن جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون کی پیشکش
دوسری جانب فوجی تیاری
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف امن کی بات ہو رہی ہے، تو دوسری طرف امریکہ مغربی ایشیا میں مزید 1000 فوجیوں اور دو میرین یونٹس کی تعیناتی کی تیاری کر رہا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے بڑھنے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
ایران کا سخت ردعمل
ایرانی حکام نے اس منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے امریکہ پر کڑی تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ: “اپنی شکست کو امن معاہدہ نہ کہا جائے، ہم خطے میں امریکی مداخلت کو قبول نہیں کریں گے۔”
ساتھ ہی ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری کسی بھی مذاکرات کی خبروں کو بھی مسترد کر دیا ہے۔



