امریکی صدر ایران سے بات چیت کیلئے تیار لیکن سفارتی حل کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ ٹرمپ کے خصوصی سفیر کا بیان

نئی دہلی: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خصوصی سفیر اسٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن فی الحال کسی سفارتی حل کے آثار نظر نہیں آتے۔سی این بی سی کو دیے گئے
ایک انٹرویو میں اسٹیو وٹکوف کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے خطے میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوششیں الٹا اثر ڈال رہی ہیں اور اس کے بجائے مختلف ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لا رہی ہیں۔ ان کے مطابق کئی ممالک نے
امریکہ سے رابطہ کیا ہے جو ابراہام پیس اکارڈ کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔اسٹیو وٹکوف نے پیر کے روز ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک بات چیت کا بھی حوالہ دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پوتن نے ٹرمپ کو بتایا کہ روس ایران کے ساتھ امریکی اثاثوں سے متعلق کوئی خفیہ معلومات شیئر نہیں کر رہا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسٹیو وٹکوف ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات بھی کر رہے تھے
جو عمان کی ثالثی میں جاری تھے تاہم انہی مذاکرات کے دوران امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا۔ایران کا کہنا ہے کہ یہ دوسری مرتبہ ہوا ہے کہ جب سفارتی عمل شروع ہوا تو امریکہ اور اسرائیل نے جنگ چھیڑ دی۔



