انٹر نیشنل

مغربی ایشیا میں امن کی بڑی کوششیں تیز: پاکستان، ترکی اور مصر متحرک — امریکہ اور ایران کے درمیان 45 روزہ جنگ بندی کا فارمولا زیر غور

مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے اور ممکنہ جنگ کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں، جس میں پاکستان، ترکی اور مصر اہم ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

 

ذرائع کے مطابق ان ممالک کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے دباؤ اور سفارتی رابطوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کے آرمی چیف سید عاصم منیر نے امریکی اعلیٰ حکام اور ایران کے وزیر خارجہ کے ساتھ رات بھر اہم بات چیت کی، جس کا مقصد فوری جنگ بندی کو یقینی بنانا اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا بتایا جا رہا ہے۔

 

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق فریقین کو ایک ابتدائی مسودہ منصوبہ بھی پیش کیا گیا ہے، جس میں 45 روزہ عارضی جنگ بندی کی تجویز شامل ہے۔ اس مجوزہ فریم ورک کے تحت جنگ بندی کے دوران مستقل امن معاہدے کی طرف پیش رفت کے لیے وسیع مذاکرات کیے جائیں گے۔

 

ذرائع کا کہنا ہے کہ عارضی جنگ بندی کے بعد 2 سے 3 ہفتوں کے اندر پاکستان میں وسیع تر مذاکرات کے انعقاد کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

 

تاہم  دونوں ممالک نے ابھی تک اس تجویز پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔رائٹرز کے مطابق ایران اور امریکہ کو ایک منصوبہ موصول ہوا ہے

 

جو پیر سے نافذ ہو سکتا ہے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان نے دشمنی ختم کرنے کے لیے ایک فریم ورک تیار کیا ہے جس میں فوری جنگ بندی اور اس کے بعد ایک جامع معاہدہ شامل ہے۔

 

دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے 48 گھنٹوں میں کسی جزوی معاہدے کے امکانات بہت کم ہیں۔ تاہم یہ آخری کوشش تصادم میں شدت کو روکنے کا واحد موقع سمجھی جا رہی ہے۔

 

بصورتِ دیگر ایران کے شہری انفراسٹرکچر پر بڑے حملے اور خلیجی ممالک میں توانائی اور پانی کی سہولیات پر جوابی حملے ہو سکتے ہیں۔اس سے پہلے امریکہ نے 15 نکاتی جنگ بندی منصوبہ

 

پیش کیا تھا جسے ایران نے "غیر منصفانہ” قرار دے کر مسترد کر دیا۔ ایران نے اپنے مطالبات پیش کیے جن میں معاوضہ اپنے حکام کے قتل کو روکنا اور خودمختاری کی ضمانت شامل تھی۔ ایران کے انکار کے بعد ٹرمپ

 

نے کئی بار دھمکیاں دیں۔ ان کی اہم شرط آبنائے ہرمز کو کھولنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے بنیادی ڈھانچے پر شدید حملے کیے جا سکتے ہیں بعد میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ 7 اپریل تک معاہدہ ممکن ہے۔

 

ایران نے عوامی طور پر مذاکرات سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ عارضی جنگ بندی نہیں بلکہ مستقل حل اور سیکیورٹی ضمانت چاہتا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ جنگ بندی کی بات

 

کو جنگ جاری رکھنے کے بہانے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ جانب سے غور کے مرحلے میں ہے، جبکہ سفارتی حلقے اسے خطے میں امن کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button