تلنگانہ

تلنگانہ قانون ساز کونسل میں کویتا رو پڑیں – کہا یہ جائیداد کی تقسیم کی لڑائی نہیں

تلنگانہ جاگروتی کی صدر کے کویتا کی آنکھیں نم، ایم ایل سی عہدے سے استعفیٰ کی منظوری کی اپیل

 

تلنگانہ جاگروتی کی صدر کے کویتا آج قانون ساز کونسل میں جذباتی ہو گئیں اور رو پڑیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام پہلوؤں پر غور کے بعد ہی استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور کونسل کے چیئرمین گتھا سُکھندر ریڈی سے ایک بار پھر اپیل کی کہ ان کے ایم ایل سی عہدے سے استعفیٰ منظور کیا جائے۔

 

کویتہ نے کہا کہ انہیں بی آر ایس میں متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور سخت پابندیوں کے درمیان کام کرنا پڑا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پارٹی میں سوال اٹھانے پر انہیں دبایا گیا اور بی آر ایس نے کبھی ان کا ساتھ نہیں دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست کے لیے انصاف کی نیت سے کام کیا، مگر پانی، فنڈس اور تقرریوں کے معاملے میں بی آر ایس نے رکاوٹیں کھڑی کیں۔

 

انہوں نے کہا کہ معطلی سے قبل راتوں رات ڈسپلنری کمیٹی تشکیل دی گئی، نہ کوئی شوکاز نوٹس دیا گیا اور نہ ہی شفاف طریقہ اپنایا گیا۔ کویتہ نے واضح کیا کہ وہ قانونی چارہ جوئی کر سکتی ہیں مگر ایسا نہیں کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ اخلاقیات سے عاری بی آر ایس سے دور ہونے پر انہیں اطمینان ہے۔

 

کویتا نے یہ بھی کہا کہ کانگریس پارٹی ان کے معاملے کو اثاثوں کے تنازع کے طور پر پیش کر رہی ہے جو سراسر غلط ہے۔ انہوں نے لکشمی نرسمہا سوامی مندر اور اپنے بچوں کی قسم کھا کر کہا کہ یہ اثاثوں کی لڑائی نہیں بلکہ خودداری کی جدوجہد ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ بی آر ایس پارٹی آئینی روح کے مطابق نہیں، اسی لیے وہ بطور فرد اس ایوان سے جا رہی ہیں، تاہم مستقبل میں ایک طاقت کے طور پر واپس آئیں گی اور ریاست میں ایک نیا سیاسی نظام قائم کریں گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button