انٹر نیشنل

کیا دوبارہ جنگ بھڑک اٹھے گی؟

نئی دہلی: امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ 21 گھنٹے تک جاری رہنے والی بات چیت میں دونوں ممالک کے درمیان کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا جس کے باعث آنے والے دنوں میں کیا حالات پیدا ہوں گے

 

اس پر تشویش بڑھ گئی ہے۔ کیا مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ جنگ بھڑک اٹھے گی؟ کیا دنیا بھر میں ایندھن کا بحران پیدا ہوگا؟ کیا روزمرہ اشیاء کی قیمتیں آسمان کو چھوئیں گی؟ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کن نتائج کو جنم دے گی؟

 

مذاکرات کی ناکامی کے بعد موجودہ دو ہفتوں کا عارضی جنگ بندی معاہدہ ختم ہونے کا امکان ہے۔ اس کے نتیجے میں امریکہ اور اسرائیل ایران پر شدید حملے کر سکتے ہیں۔ ایران کے تیل کے مراکز کے ساتھ ساتھ شہری بنیادی ڈھانچے پر بھی حملوں کا خدشہ ہے۔

 

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ پہلے ہی کئی بار خبردار کر چکے ہیں کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو سخت حملے کیے جائیں گے۔ موجودہ حالات کے پیش نظر وہ کیا فیصلہ کریں گے، اس پر خدشات بڑھ رہے ہیں۔امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا ایران بھی بھرپور جواب دے سکتا ہے۔ وہ اسرائیل کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ کے

 

تیل کے ذخائر کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات اور کویت جیسے ممالک کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ایران کے حملوں سے خطے میں موجود امریکی اڈے بھی خطرے میں آ سکتے ہیں۔ یہ جنگ لبنان اور شام تک بھی پھیل سکتی ہے۔

 

تہران کی حمایت میں حوثی اور حزب اللہ اپنی سرگرمیاں تیز کر سکتے ہیں۔ایران آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مضبوط کر سکتا ہے اور اسے بند بھی کر سکتا ہے۔ اس سے عالمی سطح پر تیل کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں غیر متوقع حد تک بڑھ سکتی ہیں۔

 

کئی ممالک میں روزمرہ اشیاء کی قیمتیں آسمان تک پہنچ سکتی ہیں۔ یہ حالات عالمی معاشی سست روی کا سبب بن سکتے ہیں۔ایران اپنے جوہری پروگرام کو مزید تیز کر سکتا ہے۔ اب تک ایران کا کہنا تھا کہ وہ یورینیم کو صرف پرامن مقاصد کے لیے افزودہ کر رہا ہے لیکن موجودہ حالات میں وہ ایٹم بم بنانے کی سمت قدم بڑھا سکتا ہے۔

 

اگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ مزید پھیلتی ہے تو اس کا اثر بھارت پر بھی پڑے گا۔ بھارت کی توانائی سلامتی کے لیے آبنائے ہرمز انتہائی اہم ہے۔ اگر تیل اور قدرتی گیس کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو اس کا ملک کی معیشت پر شدید اثر پڑ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button