نیشنل

معروف و ممتاز افسانہ نگار جیلانی بانو کا انتقال – اردو ادب کا ایک روشن باب بند ہوگیا – افسانوی دنیا ایک عہد ساز قلم کار سے محروم

معروف و ممتاز افسانہ نگار جیلانی بانو کا انتقال ہوگیا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ان کے انتقال سے اردو ادب کا ایک روشن باب بند ہوگیا اور افسانوی دنیا ایک عہد ساز قلم کار سے محروم ہوگئی۔

 

جیلانی بانو 14 جولائی 1936 کو اتر پردیش کے شہر بدایوں میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد مولانا حیرت بدایونی معروف ادیب اور شاعر تھے، جن کے ادبی ماحول نے بچپن ہی سے ان کی فکری و تخلیقی تربیت کی۔ ابتدائی تعلیم بدایوں میں حاصل کی، بعد ازاں والد کے حیدرآباد منتقل ہونے پر انہوں نے اپنی بقیہ تعلیم یہیں مکمل کی۔ 1957 میں بی اے اور 1959 میں اردو میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی شادی عثمانیہ یونیورسٹی کے پروفیسر، ڈرامہ نگار اور شاعر ڈاکٹر انور معظم سے ہوئی۔

 

ادبی سفر کا آغاز 1952 میں افسانہ ’’ایک نظر ادھر بھی‘‘ کی اشاعت سے ہوا جو رسالہ ادب لطیف میں شائع ہوا۔ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’روشنی کے مینار‘‘ اور پہلا ناول ’’ایوانِ غزل‘‘ تھا۔ انہوں نے اپنے افسانوں اور ناولوں میں معاشرتی رویوں، طبقاتی ناانصافی اور بالخصوص پسے ہوئے غریب طبقے کی زندگی کو موضوع بنایا۔ ان کی تحریروں میں نسائی شعور، سماجی جبر اور داخلی کرب کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔

 

ان کی نمایاں تصانیف میں ناول ’’ایوانِ غزل‘‘، ’’بارشِ سنگ‘‘، ’’نروان‘‘، ’’جگنو اور ستارے‘‘ اور ’’نغمے کا سفر‘‘ شامل ہیں، جبکہ افسانوی مجموعوں میں ’’روشنی کے مینار‘‘، ’’پرایا گھر‘‘، ’’رات کے مسافر‘‘، ’’راز کا قصہ‘‘، ’’یہ کون ہنسا‘‘، ’’تریاگ‘‘، ’’نئی عورت‘‘، ’’سچ کے سوا‘‘، ’’بات پھولوں کی‘‘ اور ’’کن‘‘ قابلِ ذکر ہیں۔ ان کی کہانی ’’نرسیا کی باوڑی‘‘ پر نامور ہدایت کار شیام بینگل نے 2009 میں فلم Well Done Abba بنائی، جسے بے حد سراہا گیا۔ انہوں نے حیدرآباد پر بننے والی دستاویزی فلم ’’حیدرآباد: ایک شہر ایک تہذیب‘‘ کا اسکرپٹ بھی تحریر کیا۔ ان کی کہانیوں کے تراجم متعدد زبانوں میں ہوچکے ہیں۔

 

ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں آندھرا پردیش ساہتیہ اکادمی ایوارڈ، سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ، قومی حالی ایوارڈ، غالب ایوارڈ، مہاراشٹر اردو اکادمی ایوارڈ، دوشیزہ ایوارڈ اور حکومتِ ہند کا باوقار پدما شری اعزاز سمیت کئی اہم انعامات سے نوازا گیا۔

 

جیلانی بانو کی تحریر ’’موم کی مریم‘‘ ان کے فن کا عمدہ نمونہ ہے، جس میں داخلی کشمکش، سماجی منافقت اور نسائی وجود کے کرب کو نہایت گہرے اور علامتی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ان کا اسلوب سادہ مگر اثر انگیز اور فکر انگیز تھا، جو قاری کو دیر تک اپنی گرفت میں رکھتا ہے۔

 

جیلانی بانو کا انتقال اردو ادب کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ان کی تخلیقات ہمیشہ زندہ رہیں گی اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوں گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button