مضامین

جنگ کا بدلتا منظر نامہ – عرب ممالک کو جنگ میں گھسیٹنے صلیبی و صیہونی سازشیں تیز

تحریر:سید سرفراز احمد

دنیا بھر کی جنگیں روس یوکرین ہو یا ہند پاک کی، جنگ بندی کرانے کا کریڈیٹ لینے والے ڈونالڈ ٹرمپ کو ایسی کونسی نوبت آگئی تھی کہ وہ ایران پر اپنے گود میں پل رہے اسرائیل کے ذریعہ حملہ کرانا پڑا؟ اور پھر خود بھی اس جنگ میں کیوں کود پڑا؟ جب کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کرانے والے عمان کے وزیر خارجہ نے خود اس بات کا اعتراف کیا کہ ایران امریکہ کے تمام شرائط کے ساتھ مزاکرات کو قبول کرچکا تھا۔ پھر یہ اچانک حملے کرانے کی وجہ کیا ہے؟ در اصل امریکہ کو یہ لگا کہ ایران میں حالیہ لبرل ایرانیوں کی جانب سے موجودہ رجیم(حکومت) کے خلاف احتجاج کو اپنے مفادات کی تکمیل کی نگاہ سے دیکھا۔تاکہ ایران پر حملہ کرکے ایران کے اندر بغاوت کی آگ پھیلادی جاۓ اور اپنے ماتحت چلنے والے سیاسی نظام کو مسلط کرتے ہوۓ ایران کی کمان اپنے ہاتھ میں لے لی جاۓ۔یہی امریکہ کی پرانی روش ہے۔اور وہ اپنی اس روش سے کبھی باز نہیں آسکتا۔

 

اسی لیئے امریکہ نے ایران کے ساتھ ظاہری مزاکرات کے دور کا آغاز کیا۔ تاکہ ایران کو اور دنیا کو یہ پیغام دیا جاۓ کہ امریکہ ایران کے ساتھ مزاکرات کررہا ہے۔ لیکن صلیبی اور صیہونی فسطائیت نے ایران پر حملہ کرنے کی پوری طرح سے منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ اور آخر کار غاصب اسرائیل نے ایران پر حملہ کرکے ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو شہید کردیا۔ امریکہ اور اسرائیل اس خوش فہمی کا شکار تھے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای اور اعلیٰ فوجی کمانڈرس کو شہید کرکے ایک تو ایران کے حوصلے پست کرنا چاہتا تھا۔اور دوسرے ایران کی لبرل عوام کو سڑکوں پر لاکر ایران میں تبدیلی کا خواہاں تھا۔ لیکن اسرائیل سفاک نے ایران کے ایک گرلز اسکول پر حملہ کرتے ہوۓ 160 معصوم لڑکیوں کو شہید کردیا۔مبصرین بتارہے ہیں کہ اسی حملے نے ایران کو متحد کردیا اور صلیبی و صیہونی کا ہتھوڑا خود اپنے آپ پیر پر گرگیا۔ ایران کی عوام آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر سڑکوں پر ماتم کرنے نکل گیئں۔جس سے امریکہ اور اسرائیل کی سازشوں پر پانی پِھر گیا۔ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی بھی ملک کے کسی بڑے قائد کو بلاوجہ اگر نشانہ بنایا جاۓ تو کیا ان کے اندر انتقام کی آگ نہیں جھلسے گی؟ ظاہر ہے ایسا ہی کچھ ایران نے اپنے رہبر اعلیٰ کی شہادت کے بعد امریکہ اور اسرائیل سے انتقام لینا شروع کیا۔

 

حالاں کہ یہ بات پانی کی طرح شفاف تھی کہ ایران نہ جنگ کرنا چاہتا تھا اور نہ جنگ کا خواہش مند تھا۔ ایران نے اپنے رہبر اعلیٰ کی شہادت کے بعد اسرائیل اور عرب ممالک میں امریکی ایر بیسس پر تابڑ توڑ حملے شروع کردیئے۔ کچھ میزائلس اور ڈرون ایسی جگہوں پر بھی گر چکے ہیں۔ جس سعودی عربیہ کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ جیسے کہ ریاض کی اہم تنصیب آرامکو کی "راس تنورہ” فیسلیٹی بھی شامل ہے۔ راس تنورہ ریفائنری مشرق وسطیٰ کی سب سے بڑی ریفائنریز میں سے ایک ہے جس کی صلاحیت 550,000 بیرل فی کس یومیہ ہے اور یہ سعودی خام تیل کی ریڑھ کی ہڈی کے مترادف کہلاتی ہے۔ایران کے سرکاری زرائع سے یہ بات ملتی ہے کہ ایران نے واضح کردیا کہ یہ حملہ ہم نے نہیں کیا ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ پھر یہ حملہ کس نے کیا ہے؟ یہاں دو باتیں بہت اہم ہیں ایک تو یہ کہ امریکہ اور اسرائیل اس جنگ میں عرب ممالک کو گھسیٹنا چاہتے ہیں۔تاکہ وہ راست طور پر ایران سے جنگ لڑے۔اور یہ جنگ ایران بمقابلہ صلیبی صیہونی سے ہٹ کر شعیہ سنی جنگ بن جاۓ۔ اس کے لیئے وہ اس طرح کی سازشیں کرنے جارہے ہیں۔ کیوں کہ ایک دن قبل ہی سعودی عربیہ نے کچھ اسرائیلی جاسوسوں کو پکڑا ہے جو کسی بڑے حملے کا منصوبہ کر رہے تھے اسی طرح قطر میں بھی موساد کے کچھ جاسوسوں کو پکڑا گیا ہے۔ لیکن قطر نے ابھی تک اس بات کو قبول بھی نہیں کیا اور نہ انکار کیا ہے ان باتوں کا انکشاف امریکی معروف صحافی ٹکر کالنسن نے کیا ہے جو ماضی میں ٹرمپ کے قریبی رہ چکے ہیں۔

 

دوسری بات یہ کہ انٹر سیپٹرس میزائل خاص کر اینٹی بلیسٹک میزائل جو عرب ممالک کی طرف سے دفاع کے لیئے چھوڑے جارہے ہیں وہ ایرانی میزائل کو اصل نشانوں سے رخ موڑنے کا کام کررہے ہیں۔ ایران کی جانب سے ابھی لگاتار خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر حملے کیئے جارہے ہیں۔ ایران نے سعودی کے ریاض میں امریکی سفارت خانے پر دو ڈرون سے حملہ کیا ہے۔متحدہ عرب امارات میں امریکی قونصل خانہ کے قریب بم دھماکہ ہوا ہے۔ اور سعودی و بحرین کے مابین جو پُل ہے اس پر حملہ کیا ہے۔ جس کا مقصد شائد سعودی اور بحرین میں تعلقات منقطع کرنا ہے۔ایران کے خلیجی ممالک میں موجودہ حملے کا مقصد یہی ہوسکتا ہے کہ جس سے وہ اپنا تحفظ کرنا چاہتا ہے۔ تاکہ امریکہ کی خلیجی ممالک سے ہوا اکھاڑی جاسکے۔اور بڑی حد تک اس حملوں میں ایران کامیاب بھی ہوا ہے۔ چوں کہ امریکی صدر و وزارت خارجہ نے مشرقی وسطیٰ کے 14 ممالک سے اپنے شہریوں کو فوری مشرقی وسطیٰ چھوڑنے کا حکم جاری کیا ہے۔ یہی حال غاصب ریاست اسرائیل کا بھی ہے۔ اس سے ہم اندازہ لگاسکتے کہ صورت حال کس قدر سنگین ہے۔

 

لیکن امریکہ اور اسرائیل کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ اپنے نقصانات کو دنیا کے سامنے آنے نہیں دینا چاہتے۔ وہیں پر اگر ہم خلیجی ممالک کی بات کریں تو اب تک ان خلیجی ممالک نے بہت ہی دانش مندانہ انداز میں ایران کے غصہ کو برداشت بھی کیا ہے۔ اور صیہونی و صلیبی سازشوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔لیکن امریکی صدر کے بے تکے بیانات سے قیاس لگایا جاسکتا ہے کہ وہ شائد خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عربیہ کو اس جنگ میں زبردستی گھسیٹ کر ہی چین کی سانس لینا چاہتا ہے۔ اسی کو صلیبی و صیہونی سازشوں کا اہم حصہ ماناجارہا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو امریکہ کے ہتھیاروں کی تجارت زور و شور سے ہوگی۔ جیسا کہ وہ چاہتا بھی ہے۔ لیکن یہاں سعودی عربیہ کا سخت امتحان ہوگا کہ وہ اس نازک موڑ پر کیا فیصلہ لیتا ہے۔لیکن ایک بات تو طئے ہے کہ سعودی عربیہ اس جنگ میں قطعی بھی شامل ہونا نہیں چاہتا۔ سعودی عربیہ کو چاہیئے کہ وہ کھل کر ایران سے کہہ دے کہ وہ اپنے ملک میں موجود امریکی ہوائی اڈے ایران کے خلاف استعمال کرنے نہیں دے گا۔ جیسا کہ متحدہ عرب امارات نے اس معاملہ میں پہل کردی ہے۔یہی وہ واحد راستہ ہے جس سے ایران اور خلیجی ممالک آپس میں جنگ کرنے سے بچ سکتے ہیں۔ اور صلیبی و صیہونی سازشوں کو خاک میں ملا سکتے ہیں۔

 

اسرائیل اور امریکہ چاہتے ہیں کہ عرب ممالک سے ایران کی جنگ کرادے اور اپنا راستہ ناپ لے۔ تاکہ اس جنگ سے سارے عرب ممالک اور ایران کو وہ تباہ و برباد کرنا چاہتا ہے۔ کیوں کہ اسرائیل کے نائب صدر نے خود کہا کہ ایران کے بعد اب ترکی کی باری ہے۔ تو اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ صیہونی سازشیں کس تہہ تک پہنچی ہوئی ہیں۔اب آتے ہیں ہم اس اہم سوالات کی طرف کہ امریکہ اور اسرائیل اس جنگ کو طول کیوں دینا چاہتے ہیں؟ اور اس کا رخ خلیجی ممالک کی طرف کیوں موڑنا چاہتے ہیں؟امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کہتے ہیں کہ ایران پر ہمارے حملے کا مقصد ایران کی میزائل ٹکنالوجی کا خاتمہ کرنا اور ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔تو سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ جب ایران ان ہی ایٹمی ہتھیاروں کے متعلق امریکہ کے تمام شرائط پر راضی ہوگیا تھا پھر ٹرمپ کا یہ منافقت والا چہرہ اور دوہرے معیار کی گفتگو کیوں؟ دراصل اس کے پیچھے کے جو مقاصد نظر آتے ہیں ایک تو یہ کہ اسرائیل میں آئندہ اکٹوبر میں انتخابات ہونے والے ہیں نتین یاہو کی اپنے ہی ملک میں حالت بہت خراب ہے۔ دو سال کے قریب حماس سے جنگ کی ہے اور حاصل کچھ نہیں ہوا ہے۔ جس سے اسرائیلی عوام بد ظن ہوچکی ہے۔ اور اہم بات یہ کہ نتین یاہو پر کرپشن کے الزامات لگے ہوۓ ہیں وہ کبھی بھی جیل جاسکتا ہے۔اسی فکر کو لے کر نتین یاہو انتخابات تک حالت جنگ میں رہ کر دوبارہ اسرائیل کا صدر بننا چاہتا ہے۔

 

دوسری بات یہ کہ جس طرح حالیہ دنوں میں ایپسٹین فائلز کے کچھ حقائق منظر عام پر آۓ۔ ابھی بہت کچھ حقائق پر سے پردے اٹھنے باقی ہے۔ جس میں امریکی صدر و ذہنی مریض ڈونالڈ ٹرمپ اور نتین یاہو کے بھی پردے اٹھنے باقی ہیں۔ ہوسکتا ہے اس ایپسٹین فائلز سے دنیا کی نظروں سے اوجھل کرنے کے لیئے بھی ایک سازش کے طور پر جنگ کو زبردستی مسلط کرکے اب عربوں کے قدموں میں ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تاکہ عرب بھی تباہ ہوجاۓ اور ایران بھی، اور صلیبی و صیہونی مزے لوٹتے رہے۔ اب جب کہ ایران کے حملے خلیجی ممالک میں ہورہے ہوں تو وہ کیوں امریکی ایر بیسس کو اپنے ملک میں جگہ دے رہے ہیں؟ اورجب کہ ایسی حالت میں امریکہ کہیں بھی ان خلیجی ممالک کے ساتھ کھڑا نظر نہیں آرہا ہے۔ تو خلیجی ممالک کے لیئے یہ ایک اچھا موقع ہے کہ وہ امریکہ کے فوجی اڈوں کو اپنے ممالک سے برخاست کرادیں۔ ویسے یہی امریکہ اصل سرغنہ ہے جو سعودی اور ایران کے آپسی رشتوں کی بڑھتی قربت میں فاصلے کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔یہ بات سعودی اور ایران دونوں کو سمجھنی چاہیئے۔ ورنہ نقصان دونوں کا ہوگا۔بلکہ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ عالم اسلام کا عظیم خسارہ کہلاۓ گا۔

 

اگر ہم ایران کے دفاعی انداز پر روشنی ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایران اپنا دفاعی رول جس انداز سے ادا کر رہا ہے وہ کہیں بھی غلط نہیں ہے۔ جب ایک ملک اپنے وجود کی جنگ تن تنہا لڑ رہا ہے تو باقی مسلم ممالک کو اس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیئے۔ اگر کوئی ساتھ نہیں بھی دے گا تو ایران کو اس سے کچھ فرق نہیں پڑے گا۔ کیوں کہ اس کی جوابی کاروائی اور اس کے دفاعی انداز کو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ وہ خود اکیلا آر پار کی لڑائی کے لیئے تیار ہے۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے لئے اتنا آسان نہیں ہوگا کہ وہ ایران کو جس تیزی سے اس کو مٹانے کی سازشیں رچی ہیں وہ اتنی جلدی مٹ جاۓ گا۔ کیوں کہ اس کی ایک مثال ہم غزہ کی لے سکتے ہیں غزہ پر امریکہ کی مدد سے اسرائیل قریب دو سال تک حملے کرتا رہا اور ستر ہزار افراد کو شہید کرچکا ہے۔ لیکن نہ ہی وہ حماس کو شکست دے سکا اور نہ ہی غزہ کو اپنے قبضہ میں کرسکا۔ پھر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایران کوئی پانی کا بلبلا نہیں ہے۔جس کو پل بھر میں ملیا میٹ کردیا جاۓ۔

 

کچھ ریوٹوں کے حوالے کے ذریعہ سے یہ بات بھی گردش کررہی ہے کہ چین نے ایرانی وزیر خارجہ سے بات چیت کی ہے۔جس کا مطلب صاف ہے کہ چین ہی نہیں بلکہ روس بھی ایران کے ساتھ کھڑے ہوچکے ہیں۔ بلکہ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ چین خفیہ طریقے سے ایران کو ہتھیار بھی پہنچا رہا ہے۔ ادھر مغربی ممالک جرمنی فرانس اور برطانیہ بھی اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ کھڑے ہوچکے ہیں۔ اگر یہ سب براہ راست جنگ میں شامل ہوجاتے ہیں تو تیسری عالمی جنگ کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اور اس کی پیش قیاسی امریکی ماہر معاشیات نے کی ہے۔لیکن یہ جنگ عالمی جنگ میں تبدیل ہونا اتنا آسان بھی نہیں ہے۔ جتنا اس کو بتایا جارہا ہے۔ اور ایران کو نمٹنا امریکہ اور اسرائیل کے لیئے بھی اتنا آسان نہیں ہے۔جتنا وہ سمجھ رہے ہیں چوں کہ ایران کے پاس ڈرون اور میزائلس کی بھرمار ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے پاس انٹر سیپٹرس میزائل بڑی تعداد میں ختم ہورہے ہیں۔اور جتنی رفتار سے وہ ختم ہورہے ہیں اتنی رفتار سے بنا پانا مشکل کام ہے۔تو سوچیں صلیبی اور صیہونی طاقتیں جنگ کا رخ کدھر موڑنا چاہتی ہے اور کیوں؟

متعلقہ خبریں

Back to top button