کبھی نام تو کبھی مذہب، سیاست کی نذر ہوتی کئی فلمیں

ممبئی: فلمیں ثقافتی اظہار کا ایک طاقتور ذریعہ ہوتی ہیں لیکن بعض اوقات وہ مذہبی یا سماجی گروہوں کی شبیہ پر منفی اثرات بھی ڈالتی ہیں۔ خاص طور پر مسلمانوں کے بارے میں چند فلموں پر یہ اعتراض سامنے آیا ہے کہ ان میں مسلمانوں کو منفی یا خطرناک انداز میں پیش کیا گیا
جس سے معاشرے میں غلط فہمیاں اور تعصبات کو تقویت ملتی ہے۔ ایسی کئی فلمیں بنائی گئی ہیں جن میں شامل کیرالہ اسٹوریز بھی ہے یہ فلم بھارت میں شدید تنازع کا باعث بنی۔ ناقدین اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ فلم میں مسلمانوں اور اسلام کو انتہا پسندی کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا گیا ہے
اور Love Jihad جیسے متنازع اور غیر مصدقہ نظریے کو فروغ دیا گیا ہے۔ متعدد رپورٹس کے مطابق اس فلم نے مسلمانوں کے خلاف خوف اور بداعتمادی کے جذبات کو بڑھایا، جسے اسلاموفوبیا کی ایک شکل قرار دیا گیا۔اس فلم پر بھی یہ تنقید کی گئی کہ اس میں مسلم کرداروں کو بار بار دہشت گردی یا تشدد سے جوڑا گیا ہے۔
ماہرینِ ابلاغ اور فلمی ناقدین کے مطابق جب کسی ایک مذہبی گروہ کو بار بار منفی کرداروں، تشدد یا انتہا پسندی سے جوڑا جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف سنیما تک محدود نہیں رہتے بلکہ سماجی رویّوں پر بھی پڑتے ہیں۔ عالمی سطح پر اداکار رض احمد سمیت کئی شخصیات نے فلمی صنعت پر مسلمانوں کی نسل پرستانہ اور تعصب پر مبنی عکاسی پر کھل کر تنقید کی ہے۔
تازہ طورپر او ٹی ٹی پلیٹ فارم نیٹ فلکس نے حال ہی میں اس سال ریلیز ہونے والی اپنی فلموں اور ویب سیریز کا اعلان کیا ہے۔ اس فہرست میں منوج باجپئی کی اداکاری سے سجی ویب سیریز ’گھوس خور پنڈت‘ کا نام بھی شامل تھا جو ٹیزر سامنے آتے ہی تنازعات میں گھر گئی۔ دراصل اس سیریز کے عنوان کو لے کر اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔
برہمن سماج سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے ’پنڈت‘ لفظ کو قابلِ اعتراض قرار دیا ہے اور اب یہ معاملہ سیاست کا موضوع بھی بن چکا ہے۔ کئی سیاسی جماعتوں سے وابستہ بڑے رہنما بھی اس فلم کی مخالفت کر رہے ہیں۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کسی فلم یا سیریز پر تنازعہ کھڑا ہوا ہو
اور نہ ہی یہ پہلی بار ہے کہ ایسے تنازعات میں سیاست دانوں کی انٹری ہوئی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ صرف عنوان ہی نہیں بلکہ بالی وڈ نے کئی بار ایسے موضوعات پر فلمیں بنائی ہیں جن میں کہیں ملک کی سیاسی اٹھا پٹک دکھائی گئی تو کہیں ریاستی مسائل اور لیڈروں پر کہانیاں بنی ہیں لیکن جب بھی اس طرح کی فلمیں سامنے آئی ہیں
ہنگامہ ضرور ہوا ہے۔کئی فلموں کی مخالفت مذہب، سماج اور ثقافت کے نام پر کی گئی جبکہ کچھ فلموں کے صرف عنوان پر ہی بوال مچ گیا۔ آئیے جانتے ہیں ایسی ہی چند فلموں کے بارے میں کہ آیا فلم ساز جان بوجھ کر تنازعہ کھڑا کر کے اپنی فلموں کی تشہیر کرتے ہیں یا پھر سیاست دان ان معاملات کو اپنی سیاسی روٹیاں سینکنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
منوج باجپئی کی یہ سیریز ابھی ریلیز بھی نہیں ہوئی اور اس پر تنازع پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔ کئی لوگوں اور سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سیریز کے نام میں ’پنڈت‘ کا استعمال ایک خاص سماج کی توہین ہے۔ فی الحال اس کی کہانی کسی کو معلوم نہیں اس کے باوجود صرف عنوان کی بنیاد پر مخالفت ہو رہی ہے۔
بسپا سپریمو مایاوتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ نہایت افسوس اور تشویش کی بات ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے نہ صرف اتر پردیش میں بلکہ اب فلموں کے ذریعے بھی ’پنڈت‘ کو در انداز کے طور پر پیش کر کے پورے ملک میں ان کی توہین کی جا رہی ہے۔
انہوں نے یہاں تک مطالبہ کیا ہے کہ اس سیریز پر پابندی لگائی جائے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فلم ساز اچھی طرح جانتے ہیں کہ بھارت میں اس طرح کے عنوانات پر تنازع ہونا عام بات ہے تو پھر بھی انہوں نے ایسا عنوان کیوں منتخب کیا؟ کیا اب تنازعات کے ذریعے ہی فلم یا سیریز کو ہٹ یا فلاپ بنایا جا سکتا ہے؟
اور سیاست دان بغیر کہانی دیکھے صرف ایک نام پر اتنا شور کیوں مچا رہے ہیں کیا اس کا تعلق ان کے ووٹ بینک سے ہے؟ساوتھ کے سپر اسٹار وجے کی آخری فلم ’جن نائگن‘ ۹ جنوری کو ریلیز ہونی تھی لیکن سنسر بورڈ سے سرٹیفکیٹ میں تاخیر کے باعث اس کی ریلیز مؤخر کر دی گئی۔ بورڈ نے فلم کے کچھ مناظر اور مکالموں پر اعتراض کیا
اور کہا کہ اس میں کئی سیاسی تبصرے ہیں جو تنازع کا سبب بن سکتے ہیں۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی اس کے بعد ایک شکایت درج کی گئی جس میں کہا گیا کہ یہ فلم مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچاتی ہے۔ اب اس فلم کی ریلیز کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے۔فلم پدماوت سنجے لیلا بھنسالی کی ہدایت کاری میں بنی
جس میں رنویر سنگھ، دیپیکا پاڈوکون اور شاہد کپور نے مرکزی کردار ادا کیے۔ فلم میں چتوڑ کی رانی پدماوتی کی کہانی دکھائی گئی جن کا کردار دیپیکا نے نبھایا۔ اس فلم کے کئی مناظر پر کرنی سینا اور کچھ راجپوت گروہوں نے سخت مخالفت کی۔رانی پدماوتی کی شبیہ خراب کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کرنی سینا نے فلم کے سیٹ پر ہنگامہ آرائی کی۔
فلم مکمل ہونے کے بعد اس کی ریلیز کی بھی شدید مخالفت کی گئی۔ پہلے یہ فلم یکم دسمبر ۲۰۱۷ کو ریلیز ہونے والی تھی لیکن احتجاج اور سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد اسے ۲۵ جنوری ۲۰۱۸ کو ریلیز کیا گیا۔اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس معاملے میں فلم سازوں کی غلطی تھی یا سیاست دانوں نے جان بوجھ کر اسے سیاسی رنگ دیا؟
ماہرین کے مطابق ہدایت کار تاریخ اور لوک کہانی کے درمیان فرق کو واضح طور پر پیش نہیں کر سکے۔ کئی مناظر دیکھنے کے بعد راجپوت سماج نے اسے اپنی عزت پر حملہ تصور کیا۔دوسری جانب راجپوت شناخت کو لے کر سیاست پہلے سے ہی سرگرم تھی جس کی وجہ سے یہ مخالفت جلد ہی سیاسی شکل اختیار کر گئی۔
انیل وج سمیت کئی رہنماؤں نے اس پر بیانات دیے اور فلم ریلیز سے پہلے ہی تنازعات میں گھر گئی۔ تاہم یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اس تنازع سے فلم سازوں کو خاصا فائدہ بھی پہنچا۔اب بات کرتے ہیں سال ۲۰۱۶ میں ریلیز ہونے والی فلم اڑتا پنجاب کی۔ اس فلم میں شاہد کپور، کرینہ کپور، عالیہ بھٹ اور دلجیت دوسانجھ سمیت کئی ستارے نظر آئے۔
ریلیز سے پہلے ہی اس فلم کی کہانی پر تنازع کھڑا ہو گیا تھا۔ ہدایت کار ابھیشیک چوبے نے اس فلم میں پنجاب میں منشیات کے مسئلے کو دکھایا تھا۔ فلم کی زبان اور مناظر ایسے تھے کہ حکومت کو محسوس ہوا کہ ریاست کی شبیہ خراب کی جا رہی ہے۔اس طرح فلم کی ریلیز سے پہلے ہی اسے سیاسی رنگ دے دیا گیا۔
سنسر بورڈ نے ۸۰ سے زائد مقامات پر کٹ لگائے۔ جب فلم ریلیز ہونے والی تھی اس وقت پنجاب اسمبلی انتخابات کیلئے چند ماہ باقی تھے ۔ کئی رپورٹس کے مطابق سنسر بورڈ چاہتا تھا کہ فلم کی کہانی پنجاب کے بجائے کسی فرضی مقام پر مبنی
ہو اور یہ بھی کہا گیا کہ سی بی ایف سی کا فیصلہ اس وقت سیاسی طور پر متاثر تھا۔ تاہم فلم سازوں نے اس مطالبے کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔



